کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: میت کے پیٹ کو دبانے (صاف کرنے) اور اس سے نکلنے والی نجاست کو دھونے کے حکم کا بیان
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " غَسَّلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ لِأَنْظُرَ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَيِّتِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَكَانَ طَيِّبًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَوَلِي دَفْنَهُ وَإِجْنَانَهُ دُونَ النَّاسِ أَرْبَعَةٌ: عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، وَالْفَضْلُ، وَصَالِحٌ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلُحِدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْدٌ أَوْ نُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو غسل دیا۔ میں نے چاہا کہ جو عام میت کے ساتھ گندگی وغیرہ ہوتی ہے، وہ دیکھوں تو میں نے کچھ بھی نہ پایا۔ آپ ﷺ زندہ بھی پاکیزہ تھے، فوت ہونے کے بعد بھی پاکیزہ تھے اور لوگوں کو چھوڑ کر چار آدمیوں نے آپ ﷺ کے دفن اور قبر میں اتارنے کی ذمہ داری سنبھالی: علی، عباس، فضل اور صالح رضی اللہ عنہم جو رسول اللہ ﷺ کا غلام تھا اور رسول اللہ ﷺ کے لیے لحد تیار کی گئی اور اینٹیں نصب کی گئیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الدَّارِمِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِيزِيلَ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " غَسَّلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَيِّتِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَكَانَ طَيِّبًا حَيًّا وَمَيِّتًا، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا اور میں وہ کچھ دیکھنے لگا جو عام میت کے ساتھ ہوتا ہے تو میں نے کچھ بھی نہ پایا، کیونکہ آپ ﷺ زندہ اور فوت ہونے کے بعد بھی پاکیزہ تھے۔
وَأنبأنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا أَبُو الْمُنْذِرِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ، ثنا جُنَيْدٌ أَبُو حَازِمٍ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَبْدَأْ بَعَصْرِهِ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَرَاوِيهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میت کو غسل دیا اسے چاہیے کہ وہ ابتدا پیٹ نچوڑنے سے کرے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کا راوی ضعیف ہے۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کا راوی ضعیف ہے۔