السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يؤمر به من تعاهد بطنه وغسل ما كان به من أذى باب: میت کے پیٹ کو دبانے (صاف کرنے) اور اس سے نکلنے والی نجاست کو دھونے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6626
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " غَسَّلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ لِأَنْظُرَ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَيِّتِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَكَانَ طَيِّبًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَوَلِي دَفْنَهُ وَإِجْنَانَهُ دُونَ النَّاسِ أَرْبَعَةٌ: عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، وَالْفَضْلُ، وَصَالِحٌ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلُحِدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْدٌ أَوْ نُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو غسل دیا۔ میں نے چاہا کہ جو عام میت کے ساتھ گندگی وغیرہ ہوتی ہے، وہ دیکھوں تو میں نے کچھ بھی نہ پایا۔ آپ ﷺ زندہ بھی پاکیزہ تھے، فوت ہونے کے بعد بھی پاکیزہ تھے اور میں آپ ﷺ کے دفن اور قبر کا والی بنا اور میرے علاوہ چار آدمی تھے: علی، عباس، فضل اور صالح رضی اللہ عنہم جو رسول اللہ ﷺ کا غلام تھا اور رسول اللہ ﷺ کے لیے لحد تیار کی گئی اور اینٹیں نصب کی گئیں۔