کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مریض کو تسلی دینے کے مستحب ہونے اور عیادت کرنے والے کا یہ کہنے کا بیان کہ ”کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ (بیماری) گناہوں سے پاک کرنے والی ہے“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ لَهُ: " لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى " قَالَ: قُلْتَ: طَهُورٌ، كَلَّا، بَلْ حُمَّى تَفُورُ، أَوْ تَثُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَعَمْ إِذًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کے لیے گئے اور آپ ﷺ جب بھی کسی کی عیادت کے لیے جایا کرتے تو کہتے: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى» ”کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ پاکیزگی حاصل ہو گی“ تو اس نے کہا: آپ کہتے ہیں پاکیزگی؟ بلکہ یہ تو بخار ہے جو بوڑھے شیخ پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبروں کی زیارت کروا رہا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسا ہی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6595
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
وَرَوَاهُ أَبُو كَامِلٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُخْتَارِ، فَزَادَ فِي الْحَدِيثِ فَقَالَ لَهُ: " لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ " قَالَ: فَقَالَ: " طَهُورٌ، كَلَّا، بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو كَامِلٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6596