السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من تسلية المريض، وقول العائد: لا بأس، طهور إن شاء الله باب: مریض کو تسلی دینے کے مستحب ہونے اور عیادت کرنے والے کا یہ کہنے کا بیان کہ ”کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ (بیماری) گناہوں سے پاک کرنے والی ہے“
حدیث نمبر: 6595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ لَهُ: " لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى " قَالَ: قُلْتَ: طَهُورٌ، كَلَّا، بَلْ حُمَّى تَفُورُ، أَوْ تَثُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَعَمْ إِذًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کے لیے گئے اور آپ ﷺ جب بھی کسی کی عیادت کے لیے جایا کرتے تو کہتے: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى» ”کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ پاکیزگی حاصل ہو گی“ تو اس نے کہا: آپ کہتے ہیں پاکیزگی؟ بلکہ یہ تو بخار ہے جو بوڑھے شیخ پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبروں کی زیارت کروا رہا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسا ہی ہے۔“