کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیمار کا یہ کہنا کہ ”ہائے میرا سر“ یا ”میں درد میں مبتلا ہوں“ یا ”میری تکلیف بڑھ گئی ہے“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ مَحْفُوظٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ التُّرْكُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " وَارَأْسَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلِتَاهْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ، أَوْ يَدْفَعُ اللهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ ". لَفْظُ حَدِيثِ جَعْفَرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میرا سر!“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیرے ساتھ ایسا ایسا ہوا (تو فوت ہوگئی) اور میں زندہ ہوا تو میں تیرے لیے بخشش طلب کروں گا اور تیرے لیے دعا کروں گا۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میں گم جاؤں! اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ آپ میرے مرنے کو پسند کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو آپ دوسرے دن اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ شبِ زفاف منا رہے ہوں گے۔“ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ میرا اپنا سر (تکلیف میں ہے) اور میرا ارادہ ہے کہ میں سیدنا ابوبکر اور ان کے بیٹے رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجوں اور ان سے معاہدہ کراؤں، کہ کہنے والے کہیں اور خواہش کرنے والے خواہش کر لیں؛ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے اور مومن اس کو ٹھکراتے ہیں، یا فرمایا: مومن ٹھکراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے۔“
وَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: " جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي زَمَنَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَفِي رِوَايَةٍ بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعَ ". أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تیمار داری کے لیے تشریف لائے اس تکلیف کی وجہ سے جو مجھے حجۃ الوداع کے موقع پر بہت زیادہ تھی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں اور میں صاحبِ مال ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ مجھے بہت تکلیف پہنچی ہے۔