السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المريض يقول: وارأساه، أو إني وجع، أو اشتد بي الوجع باب: بیمار کا یہ کہنا کہ ”ہائے میرا سر“ یا ”میں درد میں مبتلا ہوں“ یا ”میری تکلیف بڑھ گئی ہے“
حدیث نمبر: 6569
وَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: " جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي زَمَنَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَفِي رِوَايَةٍ بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعَ ". أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تیمار داری کے لیے تشریف لائے اس تکلیف کی وجہ سے جو مجھے حجۃ الوداع کے موقع پر بہت زیادہ تھی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں اور میں صاحبِ مال ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ مجھے بہت تکلیف پہنچی ہے۔