کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے تاریکی، زلزلے اور دیگر نشانیوں (آفات) کے وقت انفرادی طور پر نماز کی طرف گھبرا کر لپکنے کو مستحب قرار دیا
حدیث نمبر: 6378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: " كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَلْ كَانَ يُصِيبكُمْ مِثْلُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " مَعَاذَ اللهِ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ إِلَى الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن نضر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے عہد میں سخت اندھیرا ہو گیا تو میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: اے ابوحمزہ رضی اللہ عنہ! کیا نبی ﷺ کے دور میں بھی آپ کو اس طرح کا اندھیرا پہنچتا تھا؟ انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللَّهِ» ”اللہ کی پناہ!“ اگر سخت ہوا چلتی تو قیامت کے ڈر کی وجہ سے ہم مسجد کی طرف جلدی کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6379
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سَلَمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: " قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاتَتْ فُلَانَةُ، بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقِيلَ لَهُ: تَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا " وَأِيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذِهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی ﷺ کی فلاں بیوی فوت ہو گئی ہے، وہ سجدے میں گر پڑے۔ کہا گیا کہ کیا آپ اس وقت سجدہ کرتے ہیں؟ تو فرمانے لگے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“ تو کون سی نشانی نبی ﷺ کی بیویوں کے جانے سے بڑی ہو سکتی ہے؟
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ ہم نے مدینہ میں ایک آواز سنی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھ سے کہنے لگے: اے عکرمہ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور پایا کہ نبی ﷺ کی بیوی حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا فوت ہو چکی ہیں۔
فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو ان کو سجدہ کی حالت میں پایا حالانکہ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
میں نے کہا کہ سبحان اللہ! ابھی سورج طلوع نہیں ہوا، آپ نے تو سجدہ بھی کر دیا تو فرمانے لگے: کیا نبی ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“؟ تو اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ امہات المؤمنین ہمارے درمیان سے جا رہی ہیں اور ہم زندہ ہیں؟
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ ہم نے مدینہ میں ایک آواز سنی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھ سے کہنے لگے: اے عکرمہ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور پایا کہ نبی ﷺ کی بیوی حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا فوت ہو چکی ہیں۔
فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو ان کو سجدہ کی حالت میں پایا حالانکہ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
میں نے کہا کہ سبحان اللہ! ابھی سورج طلوع نہیں ہوا، آپ نے تو سجدہ بھی کر دیا تو فرمانے لگے: کیا نبی ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“؟ تو اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ امہات المؤمنین ہمارے درمیان سے جا رہی ہیں اور ہم زندہ ہیں؟
حدیث نمبر: 6380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " إِذَا سَمِعْتُمْ هَادًا مِنَ السَّمَاءِ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم آسمان سے کوئی آواز سنو تو نماز کے ذریعے مدد مانگا کرو۔“