کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گرہن ختم ہونے کے بعد خطبہ شروع کرنے کے جواز کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6374
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَكَبَّرَ وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " وَقَامَ كَمَا هُوَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ: " إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج گرہن کے دن کھڑے ہوئے، پھر تکبیر کہہ کر لمبی قرأت کی، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا۔ پھر آپ ﷺ اپنی حالت میں کھڑے رہے اور لمبی قرأت کی، لیکن یہ پہلی قرأت سے کم تھی۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے والے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا سجدہ کیا۔ اسی طرح یہ دوسری رکعت میں کیا۔ پھر سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز کی طرف جلدی کیا کرو۔“