کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عیدین کا خطبہ غور سے سننے کا بیان، جمعہ کا خطبہ غور سے سننے کے متعلق مسند احادیث گزر چکی ہیں اور عیدین کا خطبہ غور سے سننا اسی پر قیاس ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَامِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " يُكْرَهُ الْكَلَامُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ: فِي الْعِيدَيْنِ، وَالِاسْتِسْقَاءِ، وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ چار جگہوں میں کلام کو ناپسند کرتے تھے: عیدین، نمازِ استسقاء اور جمعہ کے دن۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عُثْمَانَ أَخُو نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الْعِيدَ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: " ⦗٤٢٣⦘ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ فَلْيُقِمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْضِيَ فَلْيَمْضِ ". لَفْظُ حَدِيثِ سَعْدَوَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو نمازِ عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ٹھہرنا چاہے وہ ٹھہر جائے اور جو جانا پسند کرے وہ جا سکتا ہے۔“
ابن حماد کی روایت میں ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید کے دن حاضر ہوا۔ جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو فرمایا: ”جو خطبہ سننا پسند کرے وہ سنے اور جو جانا پسند کرے وہ جا سکتا ہے۔“
ابن حماد کی روایت میں ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید کے دن حاضر ہوا۔ جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو فرمایا: ”جو خطبہ سننا پسند کرے وہ سنے اور جو جانا پسند کرے وہ جا سکتا ہے۔“
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حَمَّادٍ قَالَ: " حَضَرَتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَمِعَ الْخُطْبَةَ فَلْيَسْتَمِعْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْصَرِفَ فَلْيَنْصَرِفْ ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَعْنِي الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ السَّائِبِ الَّذِي يَرْوِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الْعِيدَ هَذَا خَطَأٌ، إِنَّمَا هُوَ مِنْ عَطَاءٍ فَقَطْ. وَإِنَّمَا يَغْلَطُ فِيهِ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ يَقُولُ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ”آپ ﷺ نے ان کو نماز عید پڑھائی“، یہ خطا ہے؛ کیونکہ یہ صرف عطاء بیان کرتے ہیں اور اس میں فضل بن موسیٰ سینانی نے غلطی کی ہے جو عبداللہ بن سائب سے نقل فرماتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ مَا قَالَهُ يَحْيَى أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الْعِيدَ ثُمَّ قَالَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقْعُدَ فَلْيَقْعُدْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا: ”جو جانا چاہے وہ چلا جائے اور جو بیٹھنا چاہے وہ بیٹھ جائے۔“