کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے منبر یا سواری پر خطبہ دینے کو مباح قرار دیا
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوِسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} [الممتحنة: ١٢] الْآيَةَ "، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا: " أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ. لَا نَدْرِي حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ، قَالَ: " تَصَدَّقْنَ "، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ فِدًا لَكُنَّ أَبِي وَأُمِّي، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نمازِ فطر کے لیے رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، وہ خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے۔ اس کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ گویا میں نبی ﷺ کو دیکھ رہا ہوں منبر سے اترتے ہوئے اور آپ ﷺ لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ ان میں سے راستہ بناتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ آپ ﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿یَا اَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”اے نبی! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں، آپ سے بیعت کرنے کے لیے۔“ جب آپ ﷺ ان سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم ایسے ہی رہنا۔“ صرف ایک عورت نے جواب دیا: ”ہاں۔“ اس کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ اللہ کے نبی ﷺ! ہم نہیں جانتے کہ وہ کون تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم صدقہ کرو۔“ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تم اپنے صدقے دو، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“ تو وہ اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں پھینک رہی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ، فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ، وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ "..
حافظ ثناء اللہ
عطاء، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عید الفطر کے دن نماز پڑھی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ جب نبی ﷺ خطبے سے فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس آئے، آپ ﷺ نے ان کو وعظ و نصیحت کی۔ اس وقت آپ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے اور عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ. وَزَادَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " زَكَاةُ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ " قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ صَدَقَةٌ يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " أَتَرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغَ فَيُذَكِّرُهُنَّ ". قَالَ: أَيْ لَعَمْرِي، إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ ". ⦗٤١٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ. قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ "، يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ عَلَى مُرْتَفَعٍ فَنَزَلَ. وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، فَقَالَ فِي ابْتِدَائِهِ: " ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللهِ ثُمَّ ذَكَرَ مُضِيَّهُ إِلَى النِّسَاءِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ لَفْظَ النُّزُولِ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكَرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبد الرزاق رحمہ اللہ نے اسی مثل بیان کیا ہے، لیکن فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ وہ صدقہ فطر تھا؟ فرمایا: نہیں بلکہ عورتیں اپنی جانب سے صدقہ کر رہی تھیں۔ بس وہ ڈالے جا رہی تھیں۔ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا اب بھی امام پر لازم ہے کہ وہ عورتوں کے پاس آئے، ان کو وعظ کرے جب خطبہ سے فارغ ہو جائے؟ فرمایا: میری عمر کی قسم! یہ ان پر حق تو ہے لیکن نہ جانے وہ اس کو کرتے نہیں ہیں۔
(ب) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ ابتدا میں تھا۔ پھر آپ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے اور اللہ سے تقویٰ کا حکم فرماتے۔ پھر انہوں نے عورتوں کی طرف جانے کا تذکرہ کیا، منبر سے اترنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو منیٰ میں خطبہ ارشاد فرمایا، لیکن سواری سے نیچے نہیں اترے۔
(ب) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ ابتدا میں تھا۔ پھر آپ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے اور اللہ سے تقویٰ کا حکم فرماتے۔ پھر انہوں نے عورتوں کی طرف جانے کا تذکرہ کیا، منبر سے اترنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو منیٰ میں خطبہ ارشاد فرمایا، لیکن سواری سے نیچے نہیں اترے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَمْسَكْتُ، إِمَّا قَالَ: بِخِطَامِهَا، وَإِمَّا قَالَ: بِزِمَامِهَا، قَالَ: " أِيُّ يَوْمٍ هَذَا "؟ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عید الاضحی کے دن سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا اور میں اس کی لگام کو پکڑے ہوئے تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“۔۔۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا كَاهِلٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ يَوْمَ عِيدٍ عَلَى نَاقَةٍ خَرْمَاءَ، وَحَبَشِيٌّ مُمْسِكٌ بِخِطَامِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں نے ابو باہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ اونٹنی پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جس کو نکیل ڈالی ہوئی تھی اور ایک حبشی غلام اسے تھامے ہوئے تھا۔
(ب) مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عید کے دن اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا، اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عید کے دن اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا۔
(ب) مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عید کے دن اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا، اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عید کے دن اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: " رَأَيْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَ عَلَى بَعِيرٍ وَلَمْ يُؤَذِّنْ وَلَمْ يُقِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے عید الفطر اور عید الاضحی کی دو رکعت پڑھائیں، پھر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا، لیکن اذان اور اقامت نہیں کہی گئی۔