السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: : يخطب قائما مقابل الناس، والناس جلوس على صفوفهم باب: امام لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر خطبہ دے اور لوگ اپنی صفوں پر بیٹھے ہوں
حدیث نمبر: 6204
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ فَيُصَلِّي، فَيَبْدَأُ بِالرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَقُومُ قَائِمًا يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فَيُكَلِّمُهُمْ وَيَأْمُرُهُمْ بِالصَّدَقَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ، وَإِلَّا انْصَرَفَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کے دن دو رکعت نماز سے ابتدا فرماتے تھے۔ پھر سلام پھیرتے، پھر لوگوں کی طرف چہرہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ ان سے کلام کرتے اور صدقے کا حکم فرماتے۔ اگر لشکر ترتیب دینے کا ارادہ ہوتا تو اس کا حکم فرماتے وگرنہ چلے جاتے۔