أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ يَوْمَ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، وَقَالَ: " إِنَّا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ، وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن خمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن لوگوں کے ساتھ نکلے تو انہوں نے امام کی تاخیر کو برا جانا اور فرمایا: ”ہم نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت تک فارغ ہوجاتے اور یہ نوافل کا وقت ہوتا تھا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُوَيْرِثِ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ بِنَجْرَانَ: " عَجِّلِ الْأَضْحَى، وَأَخِّرِ الْفِطْرَ، وَذَكَّرِ النَّاسَ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ طَلَبْتُهُ فِي سَائِرِ الرِّوَايَاتِ بِكِتَابِهِ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحویرث بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، جب وہ نجران میں تھے کہ ”عید الاضحی کو جلدی پڑھ اور عید الفطر کو مؤخر کر کے پڑھ اور لوگوں کو نصیحت کر۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسُ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، أَنَّ الْحَسَنَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ فَيَتَتَامُ طُلُوعُهَا ". وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ، وَشَاهِدُهُ عَمَلُ الْمُسْلِمِينَ بِذَلِكَ أَوْ بِمَا يَقْرُبُ مِنْهُ مُؤَخَّرًا عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کی طرف اس وقت جاتے جب سورج مکمل طلوع ہو چکا ہوتا۔ یہ روایت مرسل ہے اور مسلمانوں کا عمل بھی اسی پر ہے یا اس کے قریب قریب تھوڑی تاخیر کے ساتھ۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَاقْصُرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى يَنْتَصِفَ النَّهَارُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، انہوں نے حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ: ”جب آپ نماز پڑھیں تو سورج کے طلوع ہونے تک رک جائیں؛ کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر وہ نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول بھی ہے یہاں تک کہ آدھا دن ہو جائے۔“