السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: الغدو إلى العيدين باب: عیدین کے لیے صبح سویرے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 6151
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَاقْصُرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى يَنْتَصِفَ النَّهَارُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، انہوں نے حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ: ”جب آپ صبح کی نماز پڑھ لیں تو سورج کے بلند ہونے تک (نماز سے) رک جائیں؛ کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر وہ نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول بھی ہے یہاں تک کہ آدھا دن ہو جائے۔“