کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جو لوگوں کو امام کی تکبیر سنائے (مکبر کا بیان)
حدیث نمبر: 5935
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ ⦗٣٣٩⦘ يُكَبِّرُ لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ؛ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ، وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی تکبیر لوگوں کو سنا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ہماری طرف دیکھا، ہم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے ہماری طرف اشارہ کیا، پھر ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”قریب ہے کہ تم فارس و روم والوں کی طرح کرو گے، وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ تم ایسا نہ کرو۔ تم اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5935
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 5073»
حدیث نمبر: 5936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ أَنْ يُصَلِّي أَبُو بَكْرٍ، وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ وَخُرُوجُهُ، قَالَتْ: " فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَآخَرُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ: " أَنْ صَلِّ "، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ بیمار ہوئے جس مرض میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ابوبکر نماز پڑھائیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں تھے کہ آپ ﷺ آگئے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ ”نماز پڑھاؤ“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے اور نبی ﷺ ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، آپ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی تکبیر لوگوں کو سنا رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5936
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 5077»