کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے اور دیگر متعلقہ امور کے ابواب کا جامع بیان -- باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5860
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَبُو مُحَمَّدٍ الْهِلَالِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ⦗٣٢٠⦘ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوَا الصُّحُفَ وَاجْتَمَعُوا لِلْخُطْبَةِ "..
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو لکھتے رہتے ہیں کہ پہلے کون آیا۔ جو جمعہ کے لیے پہلے آتا ہے اس کو اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور جو اس کے بعد آیا اسے گائے کی قربانی کا۔ پھر جو اس کے بعد آئے تو مینڈھے کی قربانی کا یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا اور جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ جمعہ کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 5861
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدُ بْنِ حَجَّاجٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَه بِنَحْوِهِ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَالَ: " يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوَا الصُّحُفَ، وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ الْمُهَجِّرَ بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے لوگوں کے آنے کو ترتیب وار درج کرتے ہیں اور جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور غور سے خطبہ جمعہ سنتے ہیں۔“ پھر انہوں نے نماز کے لیے جلدی آنے والے کے لیے بھی بیان کیا۔
حدیث نمبر: 5862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَيَكْتِبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يَهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يَهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يَهْدِي كَبْشًا ثُمَّ، كَالَّذِي يَهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يَهْدِي بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پہلے آنے والوں کا ثواب لکھتے ہیں۔ جلدی آنے والے کے لیے جیسے اونٹ کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے گائے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے مینڈھے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے جیسے مرغی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے انڈے کا ثواب ہے۔ جب امام خطبہ کے لیے آتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں اور ذکر کو سنتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 5863
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ، يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ". لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ مَالِكِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کیا، پھر وہ جمعہ کے لیے چلا تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی، اور جو دوسری گھڑی چلا تو گویا اس نے گائے قربان کی، اور جو تیسری گھڑی چلا تو گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا قربان کیا، اور جو چوتھی گھڑی مسجد میں گیا تو گویا اس نے مرغی قربان کی، اور جو پانچویں گھڑی چلا تو گویا اس نے انڈے کی قربانی دی؛ جب امام آجاتا ہے تو فرشتے آجاتے ہیں اور غور سے خطبہ سننے لگتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 5864
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٣٢١⦘ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا هَمَّامٌ، أنبأ مَطَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَقْعُدُ مَلَائِكَةٌ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَكْتُبُونَ مَجِيءَ النَّاسِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَرُفِعَتِ الْأَقْلَامُ، قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا حَبَسَ فُلَانًا وَمَا حَبَسَ فُلَانًا، قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ مَرِيضًا فَاشْفِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَالًّا فَاهْدِهِ، وَإِنْ كَانَ عَائِلًا فَاغْنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ لوگوں کے آنے کے اوقات نوٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ امام آ جائے اور جب امام آ جاتا ہے تو رجسٹر لپیٹ لیے جاتے ہیں اور قلمیں اٹھا لی جاتی ہیں اور فرشتے آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ فلاں کو کس نے روک لیا، فلاں کو کس نے روک لیا۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اگر وہ بیمار ہے تو اس کو شفا دے، اگر وہ گمراہ ہے تو اس کو ہدایت دے، اگر وہ فقیر ہے تو اس کو غنی کر دے۔“
حدیث نمبر: 5865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، وَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ وَحَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، وَذَكَرَ حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ سَمَاعَ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جس نے اعضاء کو دھویا، پھر غسل کیا اور صبح سویرے چلا، امام کے قریب ہو کر بیٹھا، خاموش رہا، غور سے سنتا رہا تو اس کے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بھی معاف کر دیے جائیں گے اور جس نے کنکریوں کو چھوا اس نے فضول کام کیا۔“
حدیث نمبر: 5866
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيَّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، وَدَنَا وَاقْتَرَبَ، وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ قِيَامِ سَنَةٍ وَصِيَامِهَا ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعةٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْوَهْمُ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ مِنْ عُثْمَانَ الشَّامِيِّ هَذَا، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ " غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ " يَعْنِي غَسَّلَ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ ⦗٣٢٢⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَجْعَلُونَ فِي رُءُوسِهِمْ الْخِطْمِيَّ أَوْغَيْرِهِ، فَكَانُوا أَوَّلًا يَغْسِلُونَ رُءُوسَهَمْ ثُمَّ يَغْتَسِلُونَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اعضا کو دھویا، پھر غسل کیا اور صبح سویرے جمعہ کے لیے گیا، امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خطبہ بغور سنتا رہا اور خاموش رہا تو اس کے لیے ایک قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور روزوں کا اجر ہے۔“
(ب) سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو خطمی بوٹی سے دھویا کرتے تھے، پھر غسل کرتے تھے۔
(ب) سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو خطمی بوٹی سے دھویا کرتے تھے، پھر غسل کرتے تھے۔