کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: خطبے میں آواز بلند کرنے کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ، وَيَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ "، وَيَفَرُقُ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ ⦗٢٩٣⦘ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ " ثُمَّ يَقُولُ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضِيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَكَذَا قَالَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ: " كَانَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور غصہ سخت ہو جاتا، گویا آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرانے والے ہیں، جو صبح یا شام کے وقت حملہ کرنے والا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے: ”میں اور قیامت اس طرح ہیں جیسے یہ دو انگلیاں“ اور آپ ﷺ اپنی سبابہ اور وسطیٰ کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ فرماتے اور آپ ﷺ فرماتے: ”بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ و سیرت محمد ﷺ کا ہے اور بدترین کام نئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ پھر فرماتے: ”میں ہر مؤمن سے زیادہ اس کے نفس سے زیادہ قریب ہوں۔ جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا تو وہ میرے ذمہ ہے۔“ جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ، آواز بلند اور غصہ سخت ہو جاتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5753
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 867»
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. وَحَدِيثُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَتَمُّ..
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5754
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ بِإِسْنَادِهِ، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ اشْتَدَّ غَضَبُهُ، وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ، وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ صَبَّحَتْكُمْ مَسَّتْكُمْ ". أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قیامت کا تذکرہ فرماتے تو غصہ سخت، آواز بلند اور رخسار سرخ ہو جاتے، گویا آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرانے والے ہیں جو صبح یا شام کے وقت حملہ کرنے والا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5755
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ النسائي في الكبريٰ 5892»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: " خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ " حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا لَأَسْمَعَ مَنْ فِي السُّوقِ حَتَّى خَرَّتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں آگ سے ڈراتا ہوں۔“ یہاں تک کہ اگر آپ ﷺ میری اس جگہ ہوتے تو بازار والوں کو بھی سنا دیتے، حتی کہ آپ ﷺ کے کندھوں سے چادر گر پڑی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5756
درجۂ حدیث محدثین: جيد
تخریج حدیث «جيد۔ الدارمي 2812»