کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: لوگ اپنے چہرے امام کی طرف پھیر لیں اور ذکر (خطبہ) سنیں
حدیث نمبر: 5710
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: " جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا " فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ؟ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ؟ " وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتُهَا ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَبَالَتْ وَثَلَطَتْ وَأَرْتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، وَنِعْمَ مَالُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ ". أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدُّسْتُوَائِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء، ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے اور ہم آپ ﷺ کے ارد گرد تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے بعد تمہارے اوپر خوف محسوس کرتا ہوں جو دنیا کی زیب و زینت تمہارے اوپر کھول دی جائے گی۔“ ایک شخص نے عرض کیا: بھلائی شر کو لائے گی؟ آپ ﷺ خاموش ہو گئے تو اس سے کہا گیا: تیری کیا حالت ہے؟ تو نبی ﷺ سے کلام کرتا ہے لیکن نبی ﷺ تجھ سے کلام نہیں کرتے، اور ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ آپ ﷺ وحی سے فراغت کے بعد پسینہ صاف کر رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کدھر ہے؟“ گویا کہ آپ ﷺ اس کی تعریف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی شر کو نہیں لاتی اور موسمِ بہار جو اُگاتا ہے وہ یا ہلاک کرتا ہے اور جو سرسبز چارہ کھانے والے جانور کا جب پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ سورج کی جانب منہ کر کے بیٹھ جاتا ہے، پھر پیشاب اور گوبر کرتا ہے پھر چرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ مال سرسبز و شاداب اور میٹھا ہے۔ مسلم کا بہترین مال وہ ہے جو وہ کسی مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے، جو اس کو بغیر حق کے لیتا ہے گویا کہ وہ کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور وہ اس پر قیامت کے دن وبال ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5710
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6063»
حدیث نمبر: 5711
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَصْلُهُ كُوفِيٌّ بِالْفُسْطَاطِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ غُرَابٍ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ أَوْ قَالَ: قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاهُ بِوُجُوهِنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب منبر پر چڑھتے یا فرمایا: منبر پر بیٹھتے تو ہم آپ ﷺ کی طرف چہرہ کر کے بیٹھتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5711
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 5712
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خُزَيْمَةَ قَالَ: هَذَا الْخَبَرُ عِنْدِي مَعْلُولٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ: " رَأَيْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يَسْتَقْبِلُ الْإِمَامَ بِوَجْهِهِ إِذَا قَامَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ: رَأَيْتُكَ تَسْتَقْبِلُ الْإِمَامَ بِوَجْهِكَ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُونَهُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ إِلَّا أَنَّهُ ⦗٢٨٢⦘ قَالَ: هَكَذَا كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ذَكَرَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
ابان بن عبداللہ بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عدی بن ثابت رحمہ اللہ کو دیکھا، وہ اپنا چہرہ امام کی طرف کیے ہوئے تھے جب وہ کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ چہرے کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا وہ ایسا ہی کرتے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابان بن عبداللہ، عدی بن ثابت رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5712
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ»
حدیث نمبر: 5713
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ اسْتَقْبَلُوهُ بِوُجُوهِهِمْ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
معمر، زہری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ خطبہ شروع فرماتے تو وہ آپ ﷺ کی طرف اپنے چہرے پھیر لیتے یہاں تک کہ آپ ﷺ خطبہ سے فارغ ہوتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5713
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 5714
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: قَالَ أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ خَادِمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَخَذَ الْإِمَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ يَسْتَقْبِلُهُ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَفْرَغَ الْإِمَامُ مِنْ خُطْبَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جویریہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے نبی ﷺ کے خادم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب جمعہ کے دن امام خطبہ شروع کرتا تو وہ اپنا چہرہ امام کی طرف پھیر دیتے۔ امام کے خطبہ سے فارغ ہونے تک اسی طرح رہتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5714
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 5715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، وَغَيْرُهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: " السُّنَّةُ إِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُقْبِلُ عَلَيْهِ الْقَوْمُ بِوُجُوهِهِمْ جَمِيعًا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب امام جمعہ کے دن منبر پر خطبے کے لیے بیٹھے تو تمام لوگوں کے چہرے اس کی طرف ہونے چاہییں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5715
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 5716
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ فَأَخْبَرَنِي، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: " كَانَ يَفْرَغُ مِنْ سُبْحَتِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ، فَإِذَا خَرَجَ لَمْ يَقْعُدِ الْإِمَامُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نوافل سے امام کے آنے سے پہلے فارغ ہو جاتے تھے، جب امام آ جاتا تو اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی وہ اپنا چہرہ ان کی طرف پھیر لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5716
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 5717
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيُّ، وَقَدْ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كُنَّا نَتَحَدَّثُ حَتَّى يَجْلِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى يَقْضِيَ الْمُؤَذِّنُ تَأْذِينَهُ وَيَتَكَلَّمُ عُمَرُ، فَإِذَا تَكَلَّمَ عُمَرُ انْقَطَعَ حَدِيثُنَا فَصَمَتْنَا، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ مِنَّا حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ خُطْبَتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پایا، ہم آپس میں باتیں کرتے رہتے اور عمر رضی اللہ عنہ منبر پر موجود ہوتے، مؤذن کی اذان ختم ہونے اور عمر رضی اللہ عنہ کا خطبہ شروع کرنے سے پہلے؛ جب عمر رضی اللہ عنہ خطبہ شروع فرماتے تو ہماری باتیں ختم اور ہم خاموش ہو جاتے، پھر امام کے خطبہ سے فارغ ہونے تک کوئی بات نہیں کرتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5717
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 5686»