کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سفر میں نفل چھوڑ دینے کی رخصت (تخفیف) کا بیان
حدیث نمبر: 5507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ: " مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي، يَا ابْنَ أَخَى، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَصَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصٍ.
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا، انہوں نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ لوگ کھڑے ہیں، پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”وہ نفل پڑھ رہے ہیں۔“ فرمانے لگے: ”اے بھتیجے! اگر میں نے نفل ہی پڑھنے ہوتے تو میں نماز پوری کرلیتا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ ﷺ نے دو رکعات سے زیادہ نہیں پڑھیں، یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کی روح کو قبض کر لیا۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے سفر میں دو رکعات سے زیادہ نہیں پڑھیں، یہاں تک کہ اللہ نے ان کی روحوں کو قبض کر لیا۔“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5507
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 689»
حدیث نمبر: 5508
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي مَعَ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ شَيْئًا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا إِلَّا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سفر میں فرائض کے ساتھ کچھ نہیں پڑھتے تھے، نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد؛ وہ صرف تہجد کی نماز پڑھتے تھے، وہ بھی اپنی سواری پر، خواہ اس کا رخ جس طرف بھی ہوتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5508
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 350»