کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسافر اپنی کسی جائیداد (یا مال) پر اترے تو وہ قصر کرے جب تک کہ ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے
حدیث نمبر: 5482
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ قُلْتُ: كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابی اسحاق رحمہ اللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے تو آپ ﷺ نے واپس آنے تک دو دو رکعات پڑھیں، میں نے کہا: آپ مکہ میں کتنے دن ٹھہرے؟ فرمایا: دس دن۔
حدیث نمبر: 5483
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّفَرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُسَافِرًا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ ". ⦗٢١٩⦘ وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي قَصْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن شفی، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب گھر سے سفر کی نیت سے نکلتے تو واپسی تک دو دو رکعات نماز پڑھتے۔
حدیث نمبر: 5484
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: ايْتِ مَجْلِسَنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا قَدْ سَأَلَنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَاحْفَظُوهَا عَنِّي، مَا سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَيَقُولُ: " يَا أَهْلَ مَكَّةَ قُومُوا فَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ، فَإِنَّا سَفْرٌ ". وَغَزَا الطَّائِفَ وَحُنَيْنًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَأَتَى الْجِعْرَانَةَ فَاعْتَمَرَ مِنْهَا، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاعْتَمَرْتُ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن زید، ابونضرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ ہماری مجلس میں آنا۔ پھر فرمایا: اس نے نبی ﷺ کی سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا ہے، تم بھی اسے مجھ سے یاد کر لو۔ جب بھی نبی ﷺ نے سفر کیا تو واپسی تک دو دو رکعت پڑھتے تھے اور فرماتے: ”اے اہل مکہ! کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔“ طائف و حنین میں غزوہ کیا تو دو رکعتیں پڑھیں اور جعرانہ آکر وہاں سے عمرہ کیا۔ میں نے حج و عمرہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تو وہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما بھی اپنی خلافت کی ابتدا میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دیں۔
حدیث نمبر: 5485
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى الْأُشْنَانِيُّ قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ قَالَ: أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنِّي أَكُونُ بِمَكَّةَ فَكَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: " رَكْعَتَيْنِ، سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". وَقَالَ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَمْ أُصَلِّي إِذَا فَاتَتْنِي الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ؟ فَقَالَ: " رَكْعَتَيْنِ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں مکہ میں ہوتا ہوں، کیسے نماز پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا: ”دو رکعت ادا کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے۔“
(ب) عمرو بن مرزوق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں کتنی نماز ادا کروں، جب مسجد حرام سے نماز رہ جائے؟ انہوں نے فرمایا: ”دو رکعت ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔“
(ب) عمرو بن مرزوق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں کتنی نماز ادا کروں، جب مسجد حرام سے نماز رہ جائے؟ انہوں نے فرمایا: ”دو رکعت ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔“