حدیث نمبر: 5348
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ الْعُكْلِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي السَّفَرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَخْتَصَّ بِدُعَاءٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يُدْخِلُ عَيْنَهُ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ ". وَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، مِنْ وُجُوهٍ هَذَا أَحَدُهَا، وَالثَّانِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قوم کی امامت کروائے تو ان کے علاوہ اپنے آپ کو دعا کے ساتھ خاص نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ ان سے خیانت کرتا ہے اور کسی کے گھر اس کی اجازت کے بغیر نظر نہ ڈالے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی“۔
حدیث نمبر: 5349
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حُيَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَوْ لِامْرِئٍ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَاقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ، وَلَا يَخُصُّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَنْظُرَ فِي قَعْرِ بَيْتٍ، فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَمَرَ أَوْ قَالَ: فَقَدْ دَخَلَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ ثَوْرٍ، وَقَوْلُهُ: " دَمَرَ " يَعْنِي دَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، وَالْوَجْهُ الثَّالِثُ مَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب وغیرہ کو روک کر نماز پڑھے، بلکہ پہلے ان سے فارغ ہوجائے اور نہ ہی کسی کے لیے جائز ہے کہ بغیر اجازت کسی کی امامت کروائے اور نہ ہی اپنے آپ کو دعا کے لیے خاص کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی اور نہ ہی کسی مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ گھر کے کسی سوراخ سے دیکھے۔ اگر اس نے دیکھا تو گویا وہ گھر میں بغیر اجازت داخل ہوا۔“
حدیث نمبر: 5350
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا بَقِيَّةُ قَالَ: قَالَ لِي شُعْبَةُ: كَيْفَ حَدَّثَكَ حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، ارْدُدْ عَلَيَّ، اشْفِنِي، فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح روایت فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5351
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا الْعَيْشِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَعَلِيٌّ يَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي، اللهُمَّ ارْحَمْنِي، اللهُمَّ تُبْ عَلَيَّ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِهِ، وَقَالَ: " أَعْمِمْ، فَفَضْلُ مَا بَيْنَ الْعُمُومِ وَالْخُصُوصِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب نبی ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ نمازِ فجر کے لیے نکلے اور کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيَّ» ”اے اللہ! مجھے معاف کر، اے اللہ! مجھ پر رحم کر، اے اللہ! میری توبہ قبول کر“، نبی ﷺ نے ان کے کندھے پر مارا اور فرمایا: ”دعا کو عام کر؛ کیونکہ عام و خاص میں فضیلت کا اتنا فرق ہے جیسے آسمان و زمین کا فرق ہے۔“