کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مجموعی طور پر ولایت (امارت یا امامت کی ذمہ داری) کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5344
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ النَّيْسَابُورِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَسْرَةً وَنَدَامَةً، فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً تم امارت پر حریص ہو گے اور یہ قیامت کے دن تم پر حسرت و ندامت کا باعث ہوگی۔ اچھی ہے دودھ پلانے والی اور بری ہے دودھ چھڑانے والی۔“
حدیث نمبر: 5345
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشِيرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا حَتَّى يَفُكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ أَوْ يُنْفِقَهُ الْجَوْرُ ". قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: " يُوبِقَهُ الْجَوْرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”جو دس آدمیوں پر امیر بنا قیامت کے دن اس طرح لایا جائے گا کہ بندھا ہوا ہوگا اور اس کا عدل اس کو رہائی دلوائے گا یا اس کا ظلم اس کو ہلاک کر دے گا۔“ اور بعض نے «يُوبِقُهُ الْجَوْرُ» ”ظلم اسے ہلاک کر دے گا“ کے الفاظ ذکر کیے ہیں (معنی ایک ہی ہے)۔
حدیث نمبر: 5346
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ، وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ عَنِ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تجھے کمزور خیال کرتا ہوں، اور میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے (پسند کرتا ہوں)۔ تو دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کا والی بننا۔“