حدیث نمبر: 5192
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُونَ، أَوْ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ مَا كَانَ إِلَّا قُرْعَةً ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ جان لیں یا تم جان لو جو پہلی صف میں اجر و ثواب ہے تو تم قرعہ کے ذریعے جگہ حاصل کرو۔“
حدیث نمبر: 5193
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ: " أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَلَاةٍ أَثْقَلُ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنْ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، يَعْنِي الصُّبْحَ وَصَلَاةَ الْعِشَاءِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا كَانَ أَكْثَرَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جب سلام پھیرا تو قوم کے چہروں کو دیکھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا فلاں حاضر ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبح اور عشاء کی نماز منافقین پر بہت بھاری ہے۔ اگر وہ جان لیں جو ان میں اجر و ثواب ہے تو اگر ان کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے تو ضرور آئیں اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم جان لو کہ اس میں کیا ثواب ہے تو تم ضرور جلدی کرو اور آدمی کا دوسرے کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے کی نماز سے افضل ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا یہ بہتر ہے ایک آدمی کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے سے اور جتنے زیادہ ہوں وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔“
حدیث نمبر: 5194
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثَلَاثًا، وَعَلَى الَّذِي يَلِيهِ وَاحِدَةً ". وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ دُونَ ذِكْرِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ پہلی صف میں نماز پڑھے“، یہ تین مرتبہ فرمایا اور ”جو اس کے ساتھ ملنے والی ہے، یعنی دوسری میں نماز پڑھے“، ایک مرتبہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 5195
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا، وَلِلصَّفِّ الثَّانِي مَرَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”پہلی صف کے لیے تین مرتبہ استغفار کیا اور دوسری صف کے لیے ایک مرتبہ۔“
حدیث نمبر: 5196
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنَ مُصَرِّفٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ: " لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، أَوْ قَالَ: الصُّفُوفِ الْأُوَلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آتے، جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ ہمارے کندھوں اور سینوں کو ہاتھ لگاتے اور فرماتے: ”تم اختلاف مت کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پڑ جائے گا۔ پہلی صف والوں کے لیے اللہ رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں“ یا فرمایا: ”پہلی صفوں کے لیے۔“