أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: إِنِّي لَأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا ". قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ وَإِنَّ الْأَمْطَارَ إِذَا اشْتَدَّتْ وَسَالَ الْوَادِي حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِي، فَلَوْ صَلَّيْتَ فِي مَنْزِلِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ " قَالَ: فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَا فَأُذِنَ لَهُمَا، فَمَا جَلَسَ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِكَ؟ " فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ہوش ہے کہ نبی ﷺ نے ہمارے گھر کے ڈول سے کلی کی۔ محمود بن ربیع رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”میری نظر ختم ہو گئی ہے، جب بارش ہوتی ہے تو وادی میں پانی کی وجہ سے میرے اور مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے، اگر آپ ﷺ میرے گھر نماز پڑھ دیں تو میں اس کو جائے نماز بنا لوں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ اگلی صبح نبی ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت طلب کی تو دونوں کو اجازت دی گئی۔ آپ ﷺ بیٹھے نہیں بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کہاں پسند کرتے ہیں جہاں میں آپ کے گھر نماز پڑھوں؟“ تو میں نے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا، نبی ﷺ آگے ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنا لیں، آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعات نماز پڑھائی اور ہم نے نبی ﷺ کو حلوے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ ﷺ کے لیے بنایا تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ ⦗١٣٧⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْهَاجِرَةِ فَوَجَدْتُهُ يُسَبِّحُ، فَقُمْتُ وَرَاءَهُ فَقَرَّبَنِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا جَاءَ يَرْفَأُ تَأَخَّرْتُ فَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ ". وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً يَقُومُ الِاثْنَانِ وَرَاءَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس دوپہر کے وقت آیا۔ میں نے ان کو پایا، وہ نفل پڑھ رہے تھے، میں ان کے پیچھے ہو گیا تو انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ جب وہ آئے تو میں نے پیچھے ہٹنے میں ان کی موافقت کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہم نے صفیں بنا لیں۔
(ب) حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جب تین ہوتے تو دو پیچھے کھڑے ہوتے۔
(ب) حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جب تین ہوتے تو دو پیچھے کھڑے ہوتے۔