کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مقتدیوں کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی روایات کا بیان اگرچہ امام بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو، اور اس دلیل کا بیان جس سے سابقہ احادیث کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5078
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ قَالَ: " فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَلَمَّا أَحَسَّ النَّاسُ سَبَّحُوا، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَتَأَخَّرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ مَكَانَكَ، فَاسْتَفْتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَيْثُ انْتَهَى أَبُو بَكْرٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَائْتَمَّ أَبُو بَكْرٍ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَائْتَمَّ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ، فَمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَمَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ ". وَبِمَعْنَاهُ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ارقم بن شرحبیل فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینہ سے شام تک سفر کیا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ کی بیماری کے متعلق حدیث ذکر کی کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ آرام محسوس کیا تو آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے نکلے۔ جب لوگوں نے محسوس کیا تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ ٹھہرو۔“ نبی ﷺ نے قرآن وہاں سے شروع کیا، جہاں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی اقتدا کی اور لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کی۔ جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو آپ ﷺ کی طبیعت بوجھل ہوگئی، پھر آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے چلے اور آپ ﷺ کے پاؤں کے ساتھ زمین پر لکیر بن رہی تھی۔ نبی ﷺ کا انتقال ہوا لیکن آپ ﷺ نے وصیت نہیں کی۔
حدیث نمبر: 5079
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ ⦗١١٦⦘ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ. فَقَالَتْ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَ: فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، قَالَتْ: فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی طبیعت خراب ہوئی تو بلال رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نبی ﷺ کو نماز کی اطلاع دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ کمزور دل ہیں، جب وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو اپنی آواز لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے، اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نبی ﷺ سے یہ بات کہہ دو کہ ابوبکر نرم دل ہے، جب آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو اپنی آواز لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے، اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے یہ بات کہہ دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی یوسف کی عورتوں کی طرح ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو نبی ﷺ نے کچھ راحت محسوس کی اور آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے کھڑے ہوئے، آپ ﷺ کے پاؤں زمین پر لگنے کی وجہ سے لکیر بنا رہے تھے۔ جب آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے آنے کو محسوس کیا تو آپ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ پر ٹھہرو۔“ پھر نبی ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى الرُّويَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أُذِنَ بِالصَّلَاةِ، فَذَكَرَتْ قِصَّتَهَا دُونَ قَوْلِهَا لِحَفْصَةَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يُصَلِّي وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ عَنْ عِيسَى، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ فِيهِ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے، جس مرض میں آپ ﷺ کا انتقال ہوا، تو آپ ﷺ نے نماز کی اجازت دی۔ انہوں نے مکمل قصہ ذکر کیا، لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا قول ذکر نہیں کیا۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے، پھر آپ ﷺ بیٹھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پہلو میں تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی تکبیریں لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5081
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ، وَالْعَوْذِيُّ قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجِعًا فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً فَجَاءَ فَقَعَدَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ وَهُوَ قَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف تھی، آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ”لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ پھر نبی ﷺ نے کچھ سکون محسوس کیا تو آپ ﷺ تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ نبی ﷺ بیٹھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت کروا رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کروا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5082
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي ⦗١١٧⦘ بِهِمْ ". قَالَ عُرْوَةُ: فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، اتَّفَقَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِمَامًا وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَسَائِرَ النَّاسِ اقْتَدُوا بِهِ. وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ إِمَامًا وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی بیماری کے ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ عروہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ آرام محسوس کیا تو آپ ﷺ نکلے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کروا رہے تھے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو پیچھے ہٹے، لیکن نبی ﷺ نے اشارہ کیا کہ ”جیسے ہو ویسے ہی رہو۔“ نبی ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔
(ب) تمام روایات میں یہی ہے کہ نبی ﷺ امام تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور تمام لوگ مقتدی تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ امام ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور نبی ﷺ نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔
(ب) تمام روایات میں یہی ہے کہ نبی ﷺ امام تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور تمام لوگ مقتدی تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ امام ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور نبی ﷺ نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 5083
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ صَاحِبُ ثَعْلَبٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ قَالَا: ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا ". لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس مرض میں جس میں آپ ﷺ فوت ہوئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 5084
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ: " كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمُقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُقَدَّمَ " هَكَذَا رَوَاهُ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الْأَعْمَشِ كَمَا تَقَدَّمَ عَلَى الْإِثْبَاتِ وَالصِّحَّةِ، وَرِوَايَةُ مَسْرُوقٍ تَفَرَّدَ بِهَا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْهُ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صف میں نبی ﷺ سے آگے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ آگے تھے۔
حدیث نمبر: 5085
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ قِصَّةَ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرَهُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهِ قَالَتْ: " فَلَمَّا أَحَسَّ أَبُو بَكْرٍ بِحِسِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْخِرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَثْبُتَ ". قَالَ: " وَجِيءَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَ بِحِذَاءِ أَبِي بَكْرٍ. أَوْ قَالَتْ: فِي الصَّفِّ ". وَهَذَا يُخَالِفُ رِوَايَةَ شَبَابَةَ، عَنْ شُعْبَةَ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ شَبَابَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، بِقَرِيبٍ مِنْ هَذَا الْمَتْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے مرض کا قصہ بیان فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز کا حکم دیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کا آنا محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ رہو“۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کو لایا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر بٹھا دیا گیا یا فرمایا: صف میں بٹھا دیا گیا۔
حدیث نمبر: 5086
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ يَعْنِي الطَّرَسُوسِيَّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى ⦗١١٨⦘ بِالنَّاسِ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی بیماری میں لوگوں کو نماز پڑھائی اور نبی ﷺ صف میں تھے۔
حدیث نمبر: 5087
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ رِوَايَةِ الطَّرَسُوسِيِّ، عَنْ شَبَابَةَ، وَرُوِّينَا، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَوْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ مَرَّةً لَمْ يَمْنَعْ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ صَلَّى خَلْفَهُ أَبُو بَكْرٍ أُخْرَى. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ ذَهَبَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِيهِ إِلَى أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ رَكْعَةً، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ فَصَلَّى مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَامَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى. فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الصَّلَاةُ مُرَادَ مَنْ رَوَى أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي مَرَضِهِ، فَأَمَّا الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فِي مَرَضِهِ فَهِيَ صَلَاةُ الظُّهْرِ يَوْمَ الْأَحَدِ أَوْ يَوْمَ السَّبْتِ كَمَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيَانِ الظُّهْرِ، فَلَا تَكُونُ بَيْنَهُمَا مُنَافَاةٌ. وَيَصِحُّ الِاحْتِجَاجُ بِالْخَبَرِ الْأَوَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو دوسری مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
نوٹ: موسیٰ بن عقبہ مغازی میں ذکر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سوموار کے دن صبح کی نماز کی ایک رکعت پڑھائی، یہی وہ دن ہے جس میں نبی ﷺ فوت ہوئے۔ نبی ﷺ نے کچھ افاقہ محسوس کیا، تو آپ ﷺ نے آ کر ایک رکعت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر دوسری رکعت مکمل کی۔ ممکن ہے اس سے مراد وہ نماز ہو جو نبی ﷺ نے اپنی بیماری کی حالت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی اور وہ نماز جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیماری کے ایام میں پڑھائی وہ ظہر کی نماز ہو اور یہ معاملہ اتوار یا ہفتہ کے دن ہوا تھا جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو دوسری مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
نوٹ: موسیٰ بن عقبہ مغازی میں ذکر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سوموار کے دن صبح کی نماز کی ایک رکعت پڑھائی، یہی وہ دن ہے جس میں نبی ﷺ فوت ہوئے۔ نبی ﷺ نے کچھ افاقہ محسوس کیا، تو آپ ﷺ نے آ کر ایک رکعت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر دوسری رکعت مکمل کی۔ ممکن ہے اس سے مراد وہ نماز ہو جو نبی ﷺ نے اپنی بیماری کی حالت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی اور وہ نماز جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیماری کے ایام میں پڑھائی وہ ظہر کی نماز ہو اور یہ معاملہ اتوار یا ہفتہ کے دن ہوا تھا جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 5088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں احد کے دن نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ برس تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے چھوٹا جانا اور خندق کے دن میری عمر پندرہ برس تھی تو پھر آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔