کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیمار کا رات کا قیام چھوڑ دینا یا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا يَقُولُ: اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَّا قَدْ تَرَكَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى. مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: ٢]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے ایک یا دو راتیں قیام نہ کیا، تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی: ”اے محمد! میرا خیال ہے (معاذ اللہ) تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے“، اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: ﴿وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ﴾ [سورة الضحى: 1-3] ”قسم ہے روزِ روشن کی اور رات جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے، تمہارے رب نے تمہیں نہیں چھوڑا اور نہ ہی وہ ناراض ہوا ہے۔“
حدیث نمبر: 4721
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا الْأَسْوَدُ قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا يَقُولُ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ، لَمْ أَرَهُ قَرَبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى. مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: ٢] ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زُهَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسود کہتے ہیں: میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے ایک یا دو راتیں قیام نہ کیا۔ ایک عورت کہنے لگی: ”اے محمد! میں امید کرتی ہوں کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے (معاذ اللہ)، میں نے اس کو آپ کے قریب دو یا تین راتوں سے نہیں دیکھا۔“ اللہ نے یہ آیات اتار دیں: ﴿وَالضُّحَىٰ * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ﴾ [سورة الضحى: 1-3] ”قسم ہے روزِ روشن کی اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔ تمہارے رب نے تمہیں نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔“
حدیث نمبر: 4722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّبْعِيِّ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ⦗٢٢⦘ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُوسَى النَّصْرِيِّ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ قَالَتْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا ". كَذَا قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، وَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ وَهُوَ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی موسیٰ نصری فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا: ”تم رات کا قیام نہ چھوڑنا کیونکہ نبی ﷺ نے اس کو نہیں چھوڑا، جب آپ ﷺ بیمار ہوتے یا کمزور ہوتے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے۔“