کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں مقرر کیں
أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بندے پر رحم کرے جو عصر سے پہلے چار رکعت ادا کرتا ہے“۔
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ سَمِعَ جَدَّهُ مُسْلِمَ بْنَ مِهْرَانَ الْقُرَشِيَّ، وَيُقَالُ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْمُثَنَّى؛ لِأَنَّ كُنْيَةَ مُسْلِمٍ أَبُو الْمُثَنَّى ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ أَنْبَأَ بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ الشَّيْخُ: ⦗٦٦٦⦘ وَقَوْلُ الْقَائِلِ فِي الْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، عَنْ أَبِيهِ أَرَاهُ خَطَأً، وَاللهُ أَعْلَمُ، رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ دُونَ ذِكْرِ أَبِيهِ مِنْهُمْ سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
یہ بھی سابقہ حدیث کی ایک سند ہے، جس میں محمد بن مہران قرشی اپنے دادا ابوالمثنیٰ سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
یہی درست ہے، اور یہ ابوابراہیم محمد بن ابراہیم بن مسلم بن مہران قرشی ہیں، جنہوں نے اپنے دادا مسلم بن مہران قرشی سے سنا ہے۔ انہیں محمد بن مثنیٰ بھی کہا جاتا ہے، یعنی ابن ابی المثنیٰ، کیونکہ مسلم کی کنیت ابوالمثنیٰ تھی، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ میں ذکر کیا ہے۔
پہلی سند میں جس نے ”اپنے والد سے“ کہا ہے، میرے خیال میں وہ غلطی ہے، واللہ اعلم۔ ایک جماعت نے اسے ابوداؤد سے ان کے والد کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، ان میں سلمہ بن شبیب وغیرہ شامل ہیں۔
یہی درست ہے، اور یہ ابوابراہیم محمد بن ابراہیم بن مسلم بن مہران قرشی ہیں، جنہوں نے اپنے دادا مسلم بن مہران قرشی سے سنا ہے۔ انہیں محمد بن مثنیٰ بھی کہا جاتا ہے، یعنی ابن ابی المثنیٰ، کیونکہ مسلم کی کنیت ابوالمثنیٰ تھی، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ میں ذکر کیا ہے۔
پہلی سند میں جس نے ”اپنے والد سے“ کہا ہے، میرے خیال میں وہ غلطی ہے، واللہ اعلم۔ ایک جماعت نے اسے ابوداؤد سے ان کے والد کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، ان میں سلمہ بن شبیب وغیرہ شامل ہیں۔
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يَقُولُ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ " مِنْ صَلَاتِهِ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا، اس میں ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دو رکعات اور عصر سے پہلے چار رکعتوں کا ذکر کیا۔