أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ: ثنا أَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا: ”قبروں پر مت بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔“
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " قُمْتُ يَوْمًا أُصَلِّي وَبَيْنَ يَدِيَّ قَبْرٌ لَا أَشْعُرُ بِهِ فَنَادَانِي عُمَرُ: الْقَبْرَ الْقَبْرَ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الْقَمَرَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ مَنْ يَلِينِي: إِنَّمَا يَعْنِي الْقَبْرَ فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ " ⦗٦١١⦘ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُصَلَّى إِلَى حَشٍّ أَوْ حَمَّامٍ، أَوْ قَبْرٍ، وَكُلُّ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الْكَرَاهِيَةِ إِذَا لَمْ يُعْلَمْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي تُصِيبُهُ بِبَدَنِهِ وَثِيَابِهِ نَجَاسَةٌ؛ لِمَا رُوِّينَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا اور میرے سامنے قبر تھی، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے آواز دی: ”قبر، قبر!“ میں اس کو ”قمر“ سمجھتا رہا، میرے پاس والوں نے مجھے بتایا کہ ”قبر“ ہے تو میں الگ ہوگیا۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیت الخلاء، حمام اور قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(ج) یہ سب کراہت کے طور پر ہے جب تک اس جگہ میں، جہاں بدن اور کپڑے لگیں، نجاست کا علم نہ ہو؛ کیونکہ نبی ﷺ سے ثابت حدیث میں ہے: ”زمین میرے لیے پاکیزہ، پاک کرنے والی اور مسجد بنائی گئی ہے۔ جس شخص کو بھی نماز کا وقت آ جائے وہ جہاں ہو نماز پڑھ لے۔“
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیت الخلاء، حمام اور قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(ج) یہ سب کراہت کے طور پر ہے جب تک اس جگہ میں، جہاں بدن اور کپڑے لگیں، نجاست کا علم نہ ہو؛ کیونکہ نبی ﷺ سے ثابت حدیث میں ہے: ”زمین میرے لیے پاکیزہ، پاک کرنے والی اور مسجد بنائی گئی ہے۔ جس شخص کو بھی نماز کا وقت آ جائے وہ جہاں ہو نماز پڑھ لے۔“
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: " أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ وَسَطَ الْقُبُورِ؟ قَالَ: لَقَدْ صَلَّيْنَا عَلَى عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَطَ الْبَقِيعِ وَالْإِمَامُ يَوْمَ صَلَّيْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَضَرَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما قبرستان کے درمیان نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر بقیع قبرستان کے درمیان نماز پڑھی اور امام ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے اور اس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی شریک ہوئے۔