کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس قول کا بیان جس نے زمین کے خشک ہو جانے پر اس کے پاک ہونے کا کہا ہے
حدیث نمبر: 4243
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ، وَتُقْبِلُ بِالْمَسْجِدِ أَيَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُونُوا يُغَيِّرُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کے دور میں کتے مسجدوں میں آتے اور پیشاب کر دیتے، لیکن وہ کسی چیز کو تبدیل نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4244
وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ بِأَعْلَى صَوْتِهِ " اجْتَنِبُوا اللَّغْوَ فِي الْمَسْجِدِ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا، وَكَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ، وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ: حَدَّثَنِي أَبِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُسْنَدَ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ " وَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ " وَلَيْسَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْبُخَارِيِّ كَلِمَةُ الْبَوْلِ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ فِي مَعْنَى الْخَبَرِ: إِنَّ الْمَسْجِدَ لَمْ يَكُنْ يُغْلَقُ عَلَيْهَا، وَكَانَتْ تَتَرَدَّدُ فِيهِ الْكِلَابُ وَعَسَاهَا كَانَتْ تَبُولُ إِلَّا أَنَّ عِلْمَ بَوْلِهَا فِيهِ لَمْ يَكُنْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَلَا عِنْدَ الرَّاوِي أِيُّ مَوْضِعٍ هُوَ، وَمِنْ حَيْثُ أَمَرَ فِي بَوْلِ الْأَعْرَابِيِّ بِمَا أَمَرَ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ بَوْلَ مَا سِوَاهُ فِي حُكْمِ النَّجَاسَةِ وَاحِدٌ، وَإِنِ اخْتَلَفَ غِلَظُ نَجَاسَتِهَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ مَيْمُونَةَ فِي قِصَّةِ جِرْوِ الْكَلْبِ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ " وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي غَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِهِ بِعَدَدٍ، وَإِرَاقَةِ الْمَاءِ الَّذِي وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى نَجَاسَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بلند آواز سے مسجد میں فرمایا کرتے تھے: مسجد میں لغو باتوں سے پرہیز کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے دور میں مسجد میں رات گزارتا تھا اور میں کنوارا نوجوان تھا، کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرتے تھے، لیکن لوگ چھینٹے بھی نہیں مارتے تھے۔
(ب) ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسجد ان دنوں بند نہیں ہوتی تھی، ممکن ہے وہ پیشاب کر جاتے ہوں اور نبی ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور راوی کو اس جگہ کا علم نہ ہو۔ نبی ﷺ نے اعرابی کے پیشاب کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ بھی اسی نجاست کے حکم میں ہے۔
(ج) میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کتے کے بچے کے بارے میں نبی ﷺ نے حکم دیا، اس کو نکالا گیا، پھر آپ ﷺ نے پانی لے کر اس جگہ پر چھڑک دیا۔
(د) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ سے اس کو کئی مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور اس پانی کو بہا دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
(ب) ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسجد ان دنوں بند نہیں ہوتی تھی، ممکن ہے وہ پیشاب کر جاتے ہوں اور نبی ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور راوی کو اس جگہ کا علم نہ ہو۔ نبی ﷺ نے اعرابی کے پیشاب کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ بھی اسی نجاست کے حکم میں ہے۔
(ج) میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کتے کے بچے کے بارے میں نبی ﷺ نے حکم دیا، اس کو نکالا گیا، پھر آپ ﷺ نے پانی لے کر اس جگہ پر چھڑک دیا۔
(د) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ سے اس کو کئی مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور اس پانی کو بہا دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 4245
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ فَقَالَ: " إِنَّ جَبْرَائِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللهِ مَا أَخْلَفَنِي " قَالَتْ: فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ " قَالَ: " أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " قَالَ: فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، وَبِتَرْكِ كَلْبِ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ " قَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَفِيهِ إِثْبَاتُ نَضْحِ مَكَانِ الْكَلْبِ بِالْمَاءِ، وَفِيهِ وَفِيمَا مَضَى مِنْ كِتَابِ الطَّهَارَةِ فِي غَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِهِ، وَإِرَاقَةِ الْمَاءِ الَّذِي وَلَغَ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَجَاسَتِهِ، وَعَلَى نَسْخِ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْكَلْبِ إِنْ كَانَ يُخَالِفُهُ مَعَ أَنَّهُ يَحْتَمِلُ مَا ذَكَرَهُ الْإِسْمَاعِيلِيُّ وَغَيْرُهُ، فَلَا يَكُونُ مُخَالِفًا لَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے غم کی حالت میں صبح کی۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آج میں نے آپ ﷺ کی عجیب حالت دیکھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ملے نہیں تھے، حالانکہ انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔“ آپ ﷺ پورا دن ویسے ہی رہے۔ پھر آپ ﷺ کے ذہن میں کتے کے بچے کا خیال آیا، جو ہمارے سامان کے نیچے تھا۔ اس کو نکالا گیا، پھر آپ ﷺ نے پانی لے کر اس جگہ پر چھینٹے مارے تو شام کے وقت جبرائیل علیہ السلام بھی مل گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ نے تو گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا؟“ جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے: ”جی ہاں! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔“ صبح کے وقت نبی ﷺ نے کتوں کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن بڑے باغ کی رکھوالی والے کتے کو چھوڑ دیا اور چھوٹے باغ کی رکھوالی والے کتے کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔