حدیث نمبر: 4208
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ: " أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَنَحْنُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ يَلِيَانِ الْإِبْهَامَ قَالَ: فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذربائیجان میں تھے کہ نبی ﷺ نے ”ریشم سے منع کیا ہے، لیکن دو انگلیوں جتنے ریشم کی اجازت دی ہے۔“
حدیث نمبر: 4209
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعٍ، أَوْ إِصْبَعَيْنِ، أَوْ ثَلَاثٍ، أَوْ أَرْبَعٍ " وَأَشَارَ بِكَفِّهِ وَعَقَدَ خَمْسَيْنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ نامی مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”ریشم پہننے سے منع کیا ہے، لیکن ایک، دو، تین یا چار انگلیوں جتنے ریشم کی اجازت دی ہے۔“
حدیث نمبر: 4210
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ قَالَ: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءٍ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللهِ فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا، فَقَالَتْ: هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً لَهَا لَبِنَةُ دِيبَاجٍ وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ، فَقَالَتْ: هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى قُبِضَتْ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى نَسْتَشْفِي بِهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: مجھے پتا چلا ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام کہتے ہیں: 1۔ دھاری دار کپڑا، 2۔ سرخ رنگ کی گدی، 3۔ ماہ رجب کے مکمل روزے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ کو یاد نہیں کہ رجب کے روزے ہمیشہ کون رکھتا ہے؟ ریشم کے بارے میں میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ریشم وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ میں نے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہ نقش و نگار انہی میں سے نہ ہو اور یہ سرخ رنگ کی گدی عبداللہ کی ہے۔ میں واپس سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے ان کو خبر دی تو انہوں نے فرمایا: یہ نبی کریم ﷺ کا جبہ ہے۔ انہوں نے میرے سامنے طیالسی جبہ نکالا، اس کا گریبان ریشم کا تھا۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا۔ نبی کریم ﷺ اس کو پہنتے تھے اور ہم اس جبہ کو مریضوں کے لیے دھوتے تھے، ہم اس کے ذریعے شفا حاصل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4211
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ نُفَيْلٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنَ الْحَرِيرِ، فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَسِدَاءُ الثَّوْبِ فَلَا بَأْسَ بِهِ " وَسَائِرُ الْأَخْبَارِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي هَذَا الْبَابِ أَوْ فِي كَرَاهِيَتِهِ مَنْقُولَةٌ فِي آخِرِ كِتَابِ صَلَاةِ الْخَوْفِ حَيْثُ ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”خالص ریشم پہننے سے منع کیا ہے، لیکن وہ کپڑا جس میں ریشم کی دھاریاں ہوں اور اس کا تانہ ریشم کا ہو اس میں کوئی حرج نہیں۔“