کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نماز میں خشوع اور اس کی طرف پوری توجہ کرنے سے متعلق ابواب کا جامع بیان
حدیث نمبر: 3518
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ}.
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ ”یقیناً وہ ایمان والے کامیاب ہو گئے جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔“ [سورة المؤمنون: 1-2]
حدیث نمبر: 3518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: ٢] قَالَ: " الْخُشُوعُ فِي الْقَلْبِ وَأَنْ تُلِينَ كَتِفَكَ لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ وَأَنْ لَا تَلْتَفِتَ فِي صَلَاتِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 2] ”وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں“ میں «خُشُوع» سے مراد وہ ہے جو دل میں ہوتا ہے اور یہ کہ مسلمان اپنے کندھے نرم رکھے اور اپنی نماز میں ادھر ادھر نہ جھانکے۔
حدیث نمبر: 3519
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَحَانَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ، فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدِيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ: عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ وَإِنَّمَا يَقُولُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ذمہ اونٹوں کو چرانا تھا، ایک دن میری باری آئی، میں شام کے وقت انہیں لے کر واپس آ رہا تھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں سے باتیں کرتے دیکھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں پڑھے، ان میں اپنے دل کو مکمل متوجہ رکھے تو اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے“۔ میں نے کہا: یہ کتنی اچھی بات ہے! اچانک ایک کہنے والے نے کہا کہ اس سے پہلے والی بات اس سے بھی بڑھ کر تھی، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، کہنے لگے: میں نے تجھے دیکھا ہے کہ تم ابھی آئے ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی آدمی وضو کرے، پھر پڑھے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو جائے“۔
(ب) کتاب الطہارۃ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ سے وضو کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری طرح وضو کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، ان میں اپنے نفس سے باتیں نہیں کیں تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے“۔
(ب) کتاب الطہارۃ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ سے وضو کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری طرح وضو کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، ان میں اپنے نفس سے باتیں نہیں کیں تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے“۔
حدیث نمبر: 3520
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ ⦗٣٩٨⦘ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَآنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ رَافِعِي أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز میں ہاتھ اٹھاتے دیکھ کر فرمایا: ”نماز میں سکون اختیار کرو۔“
حدیث نمبر: 3521
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ رَافِعِي أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: " مَا لِيَ أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْأَشَجِّ، عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم اس وقت نماز میں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں کیا دیکھ رہا ہوں کہ تم شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھائے ہوئے ہو؟ نماز میں سکون اختیار کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 3522
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهُ عُودٌ وَحَدَّثَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ كَذَلِكَ قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: ذَاكَ الْخُشُوعُ فِي الصَّلَاةِ وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: قَارُّوا فِي الصَّلَاةِ، يَعْنِي اسْكُنُوا فِيهَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اس طرح ہو جاتے گویا کوئی لکڑی ہے اور فرماتے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی کرتے تھے اور اسی کو نماز میں خشوع و خضوع کرنا کہتے ہیں۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز میں قرار اختیار کرو یعنی نماز میں سکون سے کھڑے رہو۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز میں قرار اختیار کرو یعنی نماز میں سکون سے کھڑے رہو۔
حدیث نمبر: 3523
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " قَارُّوا فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز میں قرار اور اطمینان سے رہو۔
حدیث نمبر: 3524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: ٢] قَالَ: " السُّكُونُ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 2] ”جو لوگ اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں“ کے بارے میں منقول ہے کہ خشوع سے مراد نماز میں سکون کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 3525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: {" الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ "} [المؤمنون: ٢] قَالَ: " خَائِفُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ﴿الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 2] ”جو لوگ اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں۔“ میں «خَاشِعُونَ» سے مراد ڈرنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 3526
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ {الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ} [المؤمنون: ٢] قَالَ: الْخُشُوعُ فِي الْقَلْبِ، وَإِلْبَادُ الْبَصَرِ فِي الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خَاشِعُوْنَ﴾ [سورة المؤمنون: 2] کے بارے میں منقول ہے کہ دل میں خشوع اور نظر کو پست رکھے۔
حدیث نمبر: 3527
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَنَمَةَ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى صَلَاةً فَأَخَفَّهَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ إِنَّكَ خَفَّفْتَ فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ ⦗٣٩٩⦘ حُدُودِهَا شَيْئًا؟ إِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ لِيُصَلِّي الصَّلَاةَ مَا لَهُ مِنْهَا إِلَّا عُشْرُهَا تُسْعُهَا ثُمْنُهَا سُبُعُهَا سُدْسُهَا خُمُسُهَا رُبُعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا " هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ أَرَاكَ قَدْ خَفَّفْتَهَا وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي الصَّلَاةَ كَامِلَةً، وَمِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي النِّصْفَ وَالثُّلُثَ وَالرُّبُعَ وَالْخُمُسَ حَتَّى بَلَغَ الْعُشْرَ "، رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لِيُصَلِّي فَمَا يُكْتَبُ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ، وَالتُّسْعُ وَالثُّمُنُ وَالسُّبْعُ حَتَّى يُكْتَبَ لَهُ صَلَاتُهُ تَامَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عنمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے اور مختصر نماز پڑھی تو میں نے عرض کیا: اے ابویقظان! آپ نے بہت مختصر نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے مجھے نماز میں کوئی کمی کرتے دیکھا ہے؟ میرے جلدی کرنے کی وجہ یہ تھی کہ شیطان مجھے نماز میں بھلا نہ دے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے لیے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور کبھی آدھا اجر لکھا جاتا ہے۔“
(ب) عبدالرحمن بن ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں پڑھیں تو عبدالرحمن بن حارث رحمہ اللہ نے کہا: اے ابویقظان! میرا خیال ہے کہ آپ نے نماز مختصر پڑھی ہے۔
(ج) ابویسر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مکمل نماز پڑھتا ہے اور کوئی نصف پڑھتا ہے، کوئی تیسرا حصہ، کوئی چوتھا حصہ اور کوئی پانچواں حصہ۔۔۔“ حتیٰ کہ آپ نے دسویں حصے کا بھی ذکر فرمایا۔
(د) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ نماز پڑھتا ہے اور اس کے لیے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں حصہ اور بعض کے لیے اس کی نماز کا مکمل اجر لکھا جاتا ہے۔“
(ب) عبدالرحمن بن ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں پڑھیں تو عبدالرحمن بن حارث رحمہ اللہ نے کہا: اے ابویقظان! میرا خیال ہے کہ آپ نے نماز مختصر پڑھی ہے۔
(ج) ابویسر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مکمل نماز پڑھتا ہے اور کوئی نصف پڑھتا ہے، کوئی تیسرا حصہ، کوئی چوتھا حصہ اور کوئی پانچواں حصہ۔۔۔“ حتیٰ کہ آپ نے دسویں حصے کا بھی ذکر فرمایا۔
(د) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ نماز پڑھتا ہے اور اس کے لیے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں حصہ اور بعض کے لیے اس کی نماز کا مکمل اجر لکھا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3528
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّاجِرُ ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَوْفِزَ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نماز میں بےسکون ہو کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔“