حدیث نمبر: 3214
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا} [سورة: النور، آية رقم: 31].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ ”اور وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے خود ظاہر ہو جائے۔“ [سورة النور: 31]
حدیث نمبر: 3214
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ ⦗٣١٩⦘ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا} [النور: ٣١] قَالَ: " مَا فِي الْكَفِّ وَالْوَجْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] میں زینت سے مراد ہاتھ اور چہرہ ہیں۔
حدیث نمبر: 3215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ} [النور: ٣١] الْآيَةُ قَالَ: " الْكُحْلُ وَالْخَاتَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے۔
حدیث نمبر: 3216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، أنبأ خُصَيْفٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهْرَ مِنْهَا} [النور: ٣١] قَالَ: " الْكُحْلُ وَالْخَاتَمُ " وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِثْلُ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] ”اور وہ اپنی زینت کو زیبائش کو ظاہر نہ کریں مگر جو ظاہر ہو“ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے۔
حدیث نمبر: 3217
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا ظَهَرَ مِنْهَا الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " الزِّينَةُ الظَّاهِرَةُ: " الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ " وَرُوِّينَا مَعْنَاهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ﴿مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] سے مراد چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد ظاہری زیبائش چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں اور اس کے معنیٰ میں عطاء بن ابی رباح اور سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد ظاہری زیبائش چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں اور اس کے معنیٰ میں عطاء بن ابی رباح اور سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3218
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ شَامِيَّةٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثم قَالَ: " مَا هَذَا يَا أَسْمَاءُ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ يَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا، وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ " لَفْظُ حَدِيثِ الْمَالِينِيِّ. ⦗٣٢٠⦘ قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسَلٌ، خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: مَعَ هَذَا الْمُرْسَلِ قَوْلُ مَنْ مَضَى مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمْ فِي بَيَانِ مَا أَبَاحَ اللهُ مِنَ الزِّينَةِ الظَّاهِرَةِ، فَصَارَ الْقَوْلُ بِذَلِكَ قَوِيًّا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، ان کے بدن پر شامی (باریک) لباس تھا تو رسول اللہ ﷺ نے منہ دوسری طرف پھیر دیا اور فرمایا: ”اے اسماء! عورت جب بالغ ہو جائے تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ اس کا بدن دکھائی دے سوائے اس کے اور اس کے۔“ آپ ﷺ نے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے؛ خالد بن دریک کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ثابت نہیں۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کے جو اقوال گزر چکے ہیں کہ اللہ نے ظاہری زینت مباح قرار دی ہے تو ان شواہد کے ساتھ یہ قول قوی ہو جاتا ہے۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیقُ» ”اور اللہ ہی کے ساتھ توفیق ہے“۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے؛ خالد بن دریک کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ثابت نہیں۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کے جو اقوال گزر چکے ہیں کہ اللہ نے ظاہری زینت مباح قرار دی ہے تو ان شواہد کے ساتھ یہ قول قوی ہو جاتا ہے۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیقُ» ”اور اللہ ہی کے ساتھ توفیق ہے“۔