کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کہ التحیات کے کلمات سے پہلے کسی چیز سے ابتدا نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2827
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ هُوَ الرَّمَادِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، صَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَعَدَ قَالَ رَجُلٌ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ أَبُو مُوسَى قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: " يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قَائِلُهَا، قُلْتُ: وَاللهِ مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا قَائِلُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: " أَمَا تَدْرُونَ كَيْفَ تُصَلُّونَ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا، وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يُكَبِّرُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ ⦗٢٠٢⦘ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقُعُودِ فَلْيَقُلْ أَوَّلَ مَا يَتَكَلَّمُ بِهِ: " التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
حطان بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ (نماز کے آخر میں) بیٹھے تو ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ثابت ہے۔ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز سے سلام پھیرا تو پوچھا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ تمام لوگ خاموش رہے۔ انھوں نے پھر دریافت کیا کہ یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ تو خود ہی کہنے لگے: اے حطان! شاید تم نے یہ کلمات کہے ہیں؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ کلمہ نہیں کہا، لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھے اس وجہ سے سزا نہ دیں ۔ تب ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یہ کلمات میں نے کہے ہیں اور میری نیت درست تھی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم کس طرح نماز پڑھتے ہو؟ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا، ہمیں وضاحت سے سنت کی تعلیم دی اور ہمیں نماز سکھائی اور فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو سیدھا کرلو۔ جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اور جب امام تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے تکبیر کہے اور تم سے پہلے اٹھے۔ پس یہ اس کا بدل ہے (یعنی جتنا وقت پہلے رکوع کرتا ہے اتنا وقت رکوع سے پہلے اٹھتا ہے) اور جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، جب وہ بیٹھے تو سب سے پہلے یہ کہے: «التَّحِیَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاکِيَاتُ لِلّٰہِ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَيُّھَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکاتُہٗ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِينَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُولُہٗ» ”تمام قولی، مالی اور بہترین عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلامتی ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔““
حدیث نمبر: 2828
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً فَلَمَّا جَلَسَ فِي صَلَاتِهِ قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لِي: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا، قُلْتُ: مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ الْأَشْعَرِيُّ: أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللهُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعِ اللهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَبِي عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: فَإِنَّ اللهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَلَيْسَ فِيمَا رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حطان بن عبداللہ رقاشی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز میں بیٹھے تو ایک آدمی نے کہا: ”نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ثابت ہے۔“ جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ سب لوگ خاموش ہو گئے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے حطان! لگتا ہے تم نے کہے ہیں، میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں کہے اور میں ڈر گیا کہ کہیں آپ مجھے اس کی وجہ سے سزا نہ دیں، پھر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا، آپ ﷺ نے ہمیں سنتیں سکھائیں اور ہمارے لیے نماز کی تعلیم فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے ایک امامت کروائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو؛ کیونکہ امام رکوع بھی تم سے پہلے کرتا ہے اور اٹھتا بھی تم سے پہلے ہے، یہ اس کا بدل ہے (یعنی جتنا وقت پہلے رکوع کرتا ہے اتنا وقت وہ رکوع سے پہلے اٹھتا ہے) اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرلے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے یہ کہلوایا ہے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»۔ جب وہ تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے، یہ اس کا بدل ہے، جب وہ آخر میں ہو تو تم میں سب سے پہلے امام کہے: «التَّحِيَّاتُ»... ”تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔“”
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں یہ قول نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی کہلوایا: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»...
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں یہ قول نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی کہلوایا: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»...