حدیث نمبر: 2818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَسْتِيُّ ⦗١٩٨⦘ الْقَاضِي قَدِمَ عَلَيْنَا بِنَيْسَابُورَ حَاجًّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْبَكْرِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا شَقِيقٌ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللهِ دُونَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ وَالسَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ لِلَّهِ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تو سلام پھیرتے وقت یوں کہتے: بندوں سے پہلے اللہ پر، جبرائیل اور میکائیل علیہ السلام پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو۔ ایک روز ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلامتی والا ہے۔ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» ”ہر قسم کی عبادتیں، نمازیں اور تسبیحات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔“ جب تم یہ کلمات کہو گے تو تمہارا سلام آسمان اور زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔ «أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““
حدیث نمبر: 2819
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ إِمْلَاءً ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ التَّشَهُّدُ: السَّلَامُ عَلَى اللهِ السَّلَامُ عَلَى جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُولُوا هَكَذَا فَإِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم تشہد کی فرضیت سے پہلے کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ، السَّلَامُ عَلَىٰ جِبْرِيْلَ وَمِيْكَائِيْلَ» ”اللہ پر سلام ہو، جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح نہ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلام ہے۔ یوں کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» ”ہر قسم کی عبادتیں، نمازیں اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں ہوں اور ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““
حدیث نمبر: 2820
حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ قِرَاءَةً عَلَيْهِمَا، قَالُوا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ ⦗١٩٩⦘ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو معمر عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے تشہد اس طرح سکھائی کہ میرا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھوں میں تھا، جس طرح آپ ﷺ قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے: «اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حدیث نمبر: 2821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَا وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَا: وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ فَوَقَفَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَدَّهُ إِلَى حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُنَّا نَقُولُهَا فِي حَيَاتِهِ، فَلَمَّا مَاتَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ يَرَى رِوَايَةَ سَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ هِيَ الْمَحْفُوظَةَ دُونَ رِوَايَةِ أَبِي بِشْرٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ كَذَا إِلَّا أَنَّهُ أَخَّرَ قَوْلَهُ لِلَّهِ، وَزَادَ فِي الْأَصْلِ وَبَرَكَاتُهُ وَرُوِيَ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تمام قولی بدنی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت بھی۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اس میں «وَبَرَكَاتُهُ» کا اضافہ کیا۔ ”ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اس میں «وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ» کا اضافہ کیا ”اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ب) ابن عدی نے یہ روایت شعبہ سے نقل کی ہے۔ انہوں نے اسے موقوف روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم آپ ﷺ کی زندگی میں اس طرح کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت ہو۔“ جب آپ فوت ہو گئے تو ہم «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”نبی پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔“ کہنے لگ گئے۔
ایک دوسری روایت جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، اس میں «لِلّٰهِ» مؤخر ہے، یعنی «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ ہے اور اس میں «وَبَرَكَاتُهُ» کا اضافہ بھی ہے۔
(ب) ابن عدی نے یہ روایت شعبہ سے نقل کی ہے۔ انہوں نے اسے موقوف روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم آپ ﷺ کی زندگی میں اس طرح کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت ہو۔“ جب آپ فوت ہو گئے تو ہم «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”نبی پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔“ کہنے لگ گئے۔
ایک دوسری روایت جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، اس میں «لِلّٰهِ» مؤخر ہے، یعنی «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ ہے اور اس میں «وَبَرَكَاتُهُ» کا اضافہ بھی ہے۔
حدیث نمبر: 2822
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُوسَى بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ فِي آخِرِ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَشَهَّدَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ " فَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ وَرَوَاهُ الْقَعْنَبِيُّ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام اپنی نماز کی آخری رکعت میں قعدہ کی حالت میں (بیٹھا) ہو اور تشہد پڑھنے سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔“
حدیث نمبر: 2823
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيَّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، ⦗٢٠٠⦘ وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ " وَهَكَذَا رَوَاهُ الْعَدَنِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ عَنْهُمَا إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ: " ثُمَّ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ " رَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ وَزَادَ فِيهِ وَقَضَى فِيهِ تَشَهُّدَهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ هُوَ الْإِفْرِيقِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ، وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ وَهُوَ بِعِلَلِهِ مَذْكُورٌ فِي كِتَابِ الْخِلَافِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی نماز کے آخر میں (آخری) سجدے سے سر اٹھانے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز ہو گئی۔“
عبدالرحمن بن زیاد سے روایت ہے کہ جب امام (آخری قعدہ میں) بیٹھ جائے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔
اسی روایت کو معاذ بن حکم نے عبدالرحمن بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ «وَقَضَىٰ فِيهِ تَشَهُّدَهُ» ”کہ اس میں تشہد مکمل کر چکا ہو۔“
عبدالرحمن بن زیاد سے روایت ہے کہ جب امام (آخری قعدہ میں) بیٹھ جائے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔
اسی روایت کو معاذ بن حکم نے عبدالرحمن بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ «وَقَضَىٰ فِيهِ تَشَهُّدَهُ» ”کہ اس میں تشہد مکمل کر چکا ہو۔“
حدیث نمبر: 2824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا أَبَا النَّضْرِ قَالَ: سَمِعْتُ حَمَلَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لَا تَجُوزُ صَلَاةٌ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ " فَالَّذِي رُوِيَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ مِنْ قَوْلِهِ إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ لَا يَصِحُّ، وَعَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حرملہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 2825
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ مَنْ تَرَكَ التَّشَهُّدَ، فَقَالَ: " يُعِيدُ " قُلْتُ فَحَدِيثُ عَلِيٍّ مَنْ قَعَدَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ، فَقَالَ: " لَا يَصِحُّ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو تشہد نہیں پڑھتا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نماز لوٹائے۔“ میں نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ یعنی «مَنْ قَعَدَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ» ”جو تشہد کی مقدار بیٹھا“ تو انہوں نے کہا: ”وہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“