کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں سے زمین پر ٹیک لگانا، اس روایت پر قیاس کرتے ہوئے جو ہم نے پہلی رکعت سے اٹھنے کے بارے میں نقل کی ہے
حدیث نمبر: 2805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فَيَقُولُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا " رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ اسْتَوَى قَاعِدًا وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو کہتے: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ پھر وہ کسی نماز کے وقت کے علاوہ نماز پڑھ کر دکھاتے۔ آپ پہلی رکعت میں جب اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے اور زمین پر ٹیک لے کر اٹھتے۔
حدیث نمبر: 2806
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ بْنِ الْبَغْدَادِيِّ بِهَرَاةَ أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا " قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ اعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ بِيَدَيْهِ " فَقُلْتُ لِوَلَدِهِ وَلِجُلَسَائِهِ: لَعَلَّهُ يَفْعَلُ هَذَا مِنَ الْكِبَرِ؟ قَالُوا: لَا وَلَكِنْ هَذَا يَكُونُ " وَرُوِّينَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ " يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا نَهَضَ " وَكَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ الْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ازرق بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کے ساتھ زمین پر سہارا لے کر اٹھتے۔ میں نے ان کے بیٹوں اور دوستوں سے کہا کہ شاید وہ بڑھاپے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں لیکن ایسا ہوسکتا ہے۔
(ب) ہم سیدنا نافع رحمہ اللہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جب سجدے سے اٹھتے تو زمین پر سہارا لے کر اٹھتے تھے، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ اور کئی تابعین رحمہ اللہ کرتے تھے۔
(ب) ہم سیدنا نافع رحمہ اللہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جب سجدے سے اٹھتے تو زمین پر سہارا لے کر اٹھتے تھے، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ اور کئی تابعین رحمہ اللہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2807
وَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ إِمْلَاءً ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدِهِ فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ”نماز میں ہاتھ پر ٹیک لگانے“ سے منع فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2808
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَّوَيْهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي لَفْظِ حَدِيثِ ابْنِ شَبَّوَيْهِ: " نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدِهِ فِي الصَّلَاةِ "، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: " نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ "، وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ: " نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا نَهَضَ فِي الصَّلَاةِ " فَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِي مَتْنِهِ عَلَى عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابن شبویہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے ”نماز میں اپنے ہاتھوں پر سہارا لینے سے منع کیا ہے۔“
(ب) ابن رافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نماز پڑھنے کے دوران اپنے ہاتھ پر سہارا لینے سے منع فرمایا ہے۔“
(ج) ابن عبدالملک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”اپنے ہاتھوں پر سہارا لینے سے منع کیا ہے، جب نماز میں سجدے سے اٹھے۔“
(ب) ابن رافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نماز پڑھنے کے دوران اپنے ہاتھ پر سہارا لینے سے منع فرمایا ہے۔“
(ج) ابن عبدالملک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”اپنے ہاتھوں پر سہارا لینے سے منع کیا ہے، جب نماز میں سجدے سے اٹھے۔“
حدیث نمبر: 2809
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يَعْتَمِدَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ، وَهَذَا أَبَيْنُ الرِّوَايَاتِ وَرِوَايَةُ غَيْرِ ابْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ لَا تُخَالِفُهُ وَإِنْ كَانَ أَبْيَنَ مِنْهَا، وَرِوَايَةُ ابْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهْمٌ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ هِيَ الْمُرَادُ بِالْحَدِيثِ أَنَّ هِشَامَ بْنَ يُوسُفَ رَوَاهُ عَنْ مَعْمَرٍ كَذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) رسول اللہ ﷺ نماز میں اٹھتے وقت بائیں ہاتھ پر ٹیک لینے سے منع فرماتے تھے۔
(ب) ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں بیٹھنے کے دوران اپنے ہاتھ پر ٹیک لے کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
(ج) یہ واضح ترین روایات ہیں اور ابن عبدالملک کے علاوہ کی روایت ان کی مخالفت نہیں کرتی، اگرچہ وہ ان سے زیادہ واضح ہے، ابن عبدالملک کی روایت وہم ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت جس پر دلالت کرتی ہے، حدیث سے وہی مراد ہے۔
(ب) ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں بیٹھنے کے دوران اپنے ہاتھ پر ٹیک لے کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
(ج) یہ واضح ترین روایات ہیں اور ابن عبدالملک کے علاوہ کی روایت ان کی مخالفت نہیں کرتی، اگرچہ وہ ان سے زیادہ واضح ہے، ابن عبدالملک کی روایت وہم ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت جس پر دلالت کرتی ہے، حدیث سے وہی مراد ہے۔
حدیث نمبر: 2810
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى رَجُلًا وَهُوَ جَالِسٌ مُعْتَمِدًا عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ، وَقَالَ: " إِنَّهَا صَلَاةُ الْيَهُودِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز میں بیٹھنے کی حالت میں اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”یہ یہودیوں کی نماز ہے۔“
حدیث نمبر: 2811
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحِرَفِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ: رَأَى عَبْدُ اللهِ رَجُلًا يُصَلِّي سَاقِطًا عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَقَالَ: " لَا تُصَلِّ هَكَذَا إِنَّمَا يَجْلِسُ هَكَذَا الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے نافع کو فرماتے ہوئے سنا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو گھٹنوں پر گرے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگا کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اس طرح نماز نہ پڑھا کرو، اس طرح تو وہ لوگ بیٹھتے ہیں جن کو عذاب دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2812
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِذَا نَهَضَ الرَّجُلُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، أَنْ لَا يَعْتَمِدَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ " أَبُو شَيْبَةَ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ الْقُرَشِيُّ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا بِرِوَايَةٍ، تَارَةً هَكَذَا وَتَارَةً عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرض نماز میں سنت یہ ہے کہ جب پہلی دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو تو اپنے ہاتھوں کو زمین پر نہ ٹیکے، البتہ اگر وہ اتنا ضعیف العمر ہو کہ ٹیک لگائے بغیر سیدھا کھڑا نہ ہو سکے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2813
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا تَعْتَمِدَ عَلَى يَدَيْكَ، حِينَ تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بَعْدَ الْقُعُودِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
نعمان بن سعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”سنت طریقہ یہ ہے کہ جب تو دو رکعتوں کے بعد اٹھنا چاہے تو اپنے ہاتھوں پر ٹیک لگا کر نہ اٹھے۔“