کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سجدے میں دونوں ایڑیوں کو ملانے کے حوالے سے وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 2719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرْسُوسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ⦗١٦٨⦘ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ مُسْتَقْبِلًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ " فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِيَ عَلَيْكَ لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ " فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ أَخْذَكِ شَيْطَانُكِ؟ " فَقُلْتُ: أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ؟ فَقَالَ: " مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا لَهُ شَيْطَانٌ " فَقُلْتُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَنَا، لَكِنِّي دَعَوْتُ اللهَ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے ساتھ میرے بستر پر تھے، رات کو میں نے آپ کو گم پایا۔ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ آپ ﷺ سجدے کی حالت میں ہیں۔ آپ کی ایڑیاں مضبوطی سے ملی ہوئی تھیں اور انگلیوں کے کنارے آپ نے قبلہ رخ کر رکھے تھے۔ میں نے آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ» ”اے اللہ! میں تیرے غصے سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور تیرے عذاب سے تیری معافی چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں۔“ پس جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: ”اے عائشہ! تجھے تیرے شیطان نے پکڑ لیا ہے۔“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کے ساتھ بھی شیطان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں میرے ساتھ بھی تھا، لیکن میں نے اللہ سے اس کے بارے میں دعا کی تو اللہ نے اسے میرا مطیع کر دیا۔“