کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام اور اسی طرح مقتدی کا ”سمع الله لمن حمده“ اور ”ربنا لك الحمد“ کو جمع کر کے پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمْدَانَ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " قَالَ: " اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " وَكَانَ إِذَا رَكَعَ يُكَبِّرُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَقَوْلُهُ: كَانَ، عِبَارَةٌ عَنْ دَوَامِ فِعْلِهِ، وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُمَا، فَأَمَّا قَوْلُهُ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ، فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ بَعْدَ مَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِّينَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ صَلَاتَهُ قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تو «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ بھی کہتے اور جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے اور جب سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔
(ب) اس حدیث میں لفظ «كَانَ» ”تھے“ سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔
(ج) اس حدیث میں سر اٹھاتے وقت تکبیر سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے کی طرف جاتے تو تکبیر کہتے۔ واللہ اعلم۔ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے جو ابوبکر بن عبدالرحمن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
(د) سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے۔
(ب) اس حدیث میں لفظ «كَانَ» ”تھے“ سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔
(ج) اس حدیث میں سر اٹھاتے وقت تکبیر سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے کی طرف جاتے تو تکبیر کہتے۔ واللہ اعلم۔ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے جو ابوبکر بن عبدالرحمن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
(د) سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ بِهَمْدَانَ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبِي، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی بات کو سن لیا جس نے اس کی تعریف کی۔ اے اللہ، ہمارے پروردگار! تعریفوں کے لائق تیری ہی ذات ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ التَّاجِرُ، بِالرِّيِّ أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ: " اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، اللهُمَّ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ أَقُومُ وَأَقْعُدُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے تو «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، اللَّهُمَّ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ أَقُومُ وَأَقْعُدُ» بھی پڑھتے: ”اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ اے اللہ! تیری طاقت اور قوت کے سبب میں کھڑا ہوتا ہوں اور بیٹھتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ التَّاجِرُ، بِالرِّيِّ أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، أنبأ إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ إِمَامُ النَّاسِ فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ اللهُ أَكْبَرُ يَرْفَعُ بِذَلِكَ صَوْتَهُ وَنُتَابِعُهُ مَعًا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جماعت کرواتے ہوئے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے (رکوع سے اٹھ کر) «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے ہی تعریف ہے“ کہا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ یہ کلمات اونچی آواز میں کہتے اور ہم بھی آپ کی اتباع میں کہتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ مَنْ خَلْفَهُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ خَلْفَ الْإِمَامِ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " وَقَالَ عَطَاءٌ: يَجْمَعُهُمَا مَعَ الْإِمَامِ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثَانِ ضَعِيفَانِ قَدْ خَرَّجْتُهُمَا فِي الْخِلَافِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابن عون سے روایت ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی دعا سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو اس کے پیچھے والے کہیں: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔“
(ب) ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے کہ وہ امام کے پیچھے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے۔
(ج) عطاء کہتے ہیں کہ میرے نزدیک محبوب عمل یہ ہے کہ امام سمیت ان کو جمع کرے۔
اس بارے میں دو ضعیف احادیث بھی مروی ہیں جنہیں میں نے کتاب الخلافیات میں ذکر کیا ہے۔
(ب) ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے کہ وہ امام کے پیچھے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے۔
(ج) عطاء کہتے ہیں کہ میرے نزدیک محبوب عمل یہ ہے کہ امام سمیت ان کو جمع کرے۔
اس بارے میں دو ضعیف احادیث بھی مروی ہیں جنہیں میں نے کتاب الخلافیات میں ذکر کیا ہے۔