حدیث نمبر: 2569
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعُبَيْدُ اللهِ الْجُشَمِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الدَّاخِلِ الَّذِي لَمْ يُحْسِنِ الصَّلَاةَ حَتَّى عَلَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيمَا عَلَّمَهُ: " ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا " مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَينِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے۔۔۔ پھر اس شخص کا تفصیلی قصہ نقل فرمایا، جو نماز کو اچھی طرح نہیں پڑھتا تھا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے نماز سکھائی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے جو نماز سکھائی تھی اس میں یہ بھی ہے کہ ”پھر رکوع کر حتیٰ کہ تو اطمینان کے ساتھ رکوع کرے۔“
حدیث نمبر: 2570
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَحْيَى أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُجْزِي صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس آدمی کی نماز مکمل نہیں جو رکوع و سجود میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2571
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبُخَارِيِّ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِمَا قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُجْزِي صَلَاةُ رَجُلٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَامَّةُ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی رکوع اور سجدوں میں اپنی کمر برابر نہ کرے اس کی نماز ناکافی ہے۔“
حدیث نمبر: 2572
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُجْزِي صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایسی نماز کسی کام کی نہیں، جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ برابر نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2573
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ ⦗١٢٧⦘ مُسْلِمٍ، ثنا شَيْبَةُ بْنُ الْأَحْنَفِ الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا أَبُو سَلَّامٍ الْأَسْوَدُ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَلَسَ فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَامَ يُصَلِّي فَجَعَلَ لَا يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَتَرَوْنَ هَذَا لَوْ مَاتَ مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ؟ يَنْقُرُ صَلَاتَهُ كَمَا يَنْقُرُ الْغُرَابُ الدَّمَ، إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَلَا يَرْكَعُ، وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ كَالْجَائِعِ لَا يَأْكُلُ إِلَّا تَمْرَةً أَوْ تَمْرَتَيْنِ، فَمَاذَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، وَأَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ " قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَشْعَرِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ كُلُّ هَؤُلَاءِ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، پھر ان میں سے ایک گروہ میں بیٹھ گئے۔ اس دوران ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا، لیکن وہ رکوع بھی صحیح نہیں کر رہا تھا اور سجدوں میں بھی ٹھونگیں لگا رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ اسی حالت میں مر جائے تو ملتِ محمدیہ ﷺ کے علاوہ کسی اور ملت پر اس کی موت ہو گی۔ نماز میں اس طرح ٹھونگیں مار رہا ہے جس طرح کوا خون میں ٹھونگیں مارتا ہے۔ اس شخص کی مثال جو اس طرح نماز پڑھتا ہے کہ اس میں نہ تو رکوع صحیح کرتا ہے بلکہ اپنے سجدوں میں (کوے کی طرح) ٹھونگیں مارتا ہے، اس بھوکے کی طرح ہے جو صرف ایک یا دو کھجوریں کھا سکے، وہ اس کو کیا کفایت کریں گی۔ لہٰذا اچھی طرح وضو کیا کرو۔ (خشک) ایڑیوں والوں کے لیے آگ کی وعید ہے، بربادی ہے اور رکوع و سجود بھی مکمل کیا کرو۔“
ابو صالح کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: لشکروں کے سپہ سالاروں یعنی خالد بن ولید، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ اور یزید بن سفیان رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہے اور ان سب نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔
ابو صالح کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: لشکروں کے سپہ سالاروں یعنی خالد بن ولید، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ اور یزید بن سفیان رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہے اور ان سب نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔