کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: رکوع میں تطبیق (دونوں ہاتھوں کو ملا کر گھٹنوں کے درمیان رکھنے) کے بارے میں مروی روایات کا بیان
حدیث نمبر: 2542
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ قَالَ: صَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ قُلْنَا: لَا، فَقَالَ: " قُومُوا فَصَلُّوا، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا رَكَعْنَا وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَلَمَّا صَلَّيْنَا قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرِقِ الْمَوْتَى، يَعْنِي آخِرَ الْوَقْتِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً، وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَصَلُّوا جَمِيعًا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ⦗١١٩⦘ فَلْيَقْدُمْكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَأَرَانَا قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: هَذَا قَدْ تُرِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اسود اور علقمہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر آئے۔ انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ، نماز پڑھو۔ لیکن انہوں نے ہمیں نہ اذان کا حکم دیا نہ اقامت کا۔ ہم چلے تاکہ ان کے پیچھے کھڑے ہوں تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر لیا۔
جب ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر چٹکی ماری اور اپنی ہتھیلیوں کو پھر انہیں اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے (نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد) فرمایا: ”عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور اس کو آخر وقت تک روک رکھیں گے۔ جب تم ان (حکمرانوں) کو دیکھو کہ وہ اس طرح کریں تو تم نماز کو اس کے وقت میں ادا کرو اور ان کے ساتھ نماز کو نفل بنا لو اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے (ایک ہی صف میں) نماز پڑھو۔ اگر تمہاری تعداد اس سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آگے نکل جائے۔ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازوؤں کو اپنی رانوں پر پھیلا دے۔ پھر اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر گھٹنوں کے درمیان رکھ لے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں کر کے دکھایا۔ پھر فرمایا کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کو کھلا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ ابو معاویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ عمل متروک ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2542
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 534»