حدیث نمبر: 2491
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ " يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى: " فَلَمَّا انْصَرَفَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز پڑھائی، جب بھی نیچے جاتے اور اوپر اٹھتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ جیسی نماز پڑھتا ہوں۔
یحییٰ کی حدیث میں «فَإِذَا انْصَرَفَ» کی جگہ «فَلَمَّا انْصَرَفَ» ہے۔
یحییٰ کی حدیث میں «فَإِذَا انْصَرَفَ» کی جگہ «فَلَمَّا انْصَرَفَ» ہے۔
حدیث نمبر: 2492
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ⦗٩٨⦘ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ اثْنَتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حُجَيْنِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قیام کے وقت تکبیر کہتے، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے جب اپنی کمر رکوع سے سیدھی کرتے، پھر جب سیدھے کھڑے ہوجاتے تو کہتے: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“، پھر سجدے میں جھکتے ہوئے تکبیر کہتے، اس کے بعد سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر اسی طرح ساری نماز میں کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کرلیتے اور دو رکعتوں کے بعد اٹھتے وقت بھی تکبیر کہتے۔
حدیث نمبر: 2493
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ " قَالَ: فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلَاتَهُ حَتَّى لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ " وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ الْأَخِيرَةُ قَدْ رُوِيَتْ فِي الْحَدِيثِ الْمَوْصُولِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی نیچے جاتے یا اوپر اٹھتے تو تکبیر کہتے تھے۔ آپ ﷺ کی یہی نماز رہی حتیٰ کہ آپ ﷺ اللہ کو پیارے ہو گئے۔
حدیث نمبر: 2494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي وَبَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ " يُكَبِّرُ فِي صَلَاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، وَغَيْرِهَا فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي اثْنَتَيْنِ فَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ "، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ، هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ يَحْمِلُهُ مَالِكٌ، وَالزُّبَيْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ⦗٩٩⦘ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَوَافَقَ عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوبکر بن عبدالرحمن اور ابو سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرض نماز اور غیر فرض نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ جب کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتے، پھر سجدے سے پہلے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے، پھر سجدہ کے لیے جھکتے ہوئے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، پھر سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، پھر دوسرے سجدے کے لیے بھی تکبیر کہتے، اس کے بعد دوسرے سجدے سے اٹھتے ہوئے بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔ دو رکعتوں کے بعد قعدہ سے اٹھتے ہوئے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔ آپ ہر رکعت میں اس طرح کرتے حتیٰ کہ نماز سے فارغ ہوجاتے۔ ایک مرتبہ سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے سب سے زیادہ قریب ہوں، آپ کی یہی نماز رہی حتیٰ کہ دنیا سے انتقال فرما گئے۔“
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آخری کلام امام مالک اور امام زہری رحمہما اللہ وغیرہ کا ہے۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آخری کلام امام مالک اور امام زہری رحمہما اللہ وغیرہ کا ہے۔
حدیث نمبر: 2495
وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الْأَعْلَى فَأَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَلَمَّا " رَكَعَ كَبَّرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ حِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ اور ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو تکبیر کہی اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہا، پھر سجدہ کیا اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو بھی تکبیر کہی، پھر دو رکعتوں سے اٹھتے وقت بھی تکبیر کہی۔ پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی نماز اسی طرح رہی حتیٰ کہ آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
حدیث نمبر: 2496
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينٍ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: " صَلَّى مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ عِمْرَانُ ذَكَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلَاةً كَانَ يُصَلِّيهَا بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا وَضَعَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بصرہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں وہ نماز سکھائی جو رسول اللہ ﷺ پڑھایا کرتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ وہ جب بھی اوپر نیچے ہوتے تو تکبیر کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 2497
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرٌ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَفَّانُ، وَأَبُو سَلَمَةَ قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک بزرگ کے پیچھے مکہ میں نماز ادا کی۔ اس نے ظہر کی نماز میں بائیس تکبیریں کہیں۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے ایک احمق بوڑھے کے پیچھے نماز پڑھی، اس نے ظہر کی نماز میں بائیس تکبیریں کہی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم پائے، ابوالقاسم ﷺ کی یہی نماز ہے۔
حدیث نمبر: 2498
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحُسَيْنِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ⦗١٠٠⦘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: " يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ " فَقَالَ لَهُ خَطِيمٌ: عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا؟ فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: لَهُ خَطِيمٌ، وَعُثْمَانَ؟ قَالَ: وَعُثْمَانَ هَذَا هُوَ الصَّوَابُ بِالْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ وَقِيلَ حَطِيمٌ بِالْحَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن اصم سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ جب رکوع اور سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے اور جب دوبارہ سجدہ کرتے یا جب دو رکعتوں سے اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے۔ خطیم نے ان سے پوچھا: آپ نے یہ کس سے یاد کی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ سے، ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے۔ خطیم نے ان سے کہا: کیا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ یہ لفظ خطیم ہے، بعض نے حطیم بھی کہا ہے۔
حدیث نمبر: 2499
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ " يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ إِذَا رَفَعُوا وَإِذَا وَضَعُوا، وَهَذَا وَمَا قَبْلَهُ أَوْلَى ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن اصم سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جب بھی نماز میں اوپر اٹھتے یا نیچے جاتے تو تکبیر کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 2500
مِمَّا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ " وَفِي حَدِيثِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ " لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ " فَقَدْ يَكُونُ كَبَّرَ وَلَمْ يَسْمَعْ، وَقَدْ يَكُونُ تَرَكَ مَرَّةً لِيُبَيِّنَ الْجَوَازَ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر مکمل نہیں کہتے تھے۔
(ب) عمرو کی حدیث میں سیدنا ابن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ ﷺ تکبیر مکمل نہیں کہا کرتے تھے۔
(ج) یہاں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے تکبیر کہی ہو اور انہوں نے نہ سنی ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے جوازی طور پر اس کو ایک آدھ بار چھوڑ بھی دیا ہو۔
(ب) عمرو کی حدیث میں سیدنا ابن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ ﷺ تکبیر مکمل نہیں کہا کرتے تھے۔
(ج) یہاں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے تکبیر کہی ہو اور انہوں نے نہ سنی ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے جوازی طور پر اس کو ایک آدھ بار چھوڑ بھی دیا ہو۔