حدیث نمبر: 2353
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ عَاصِمًا الْعَنَزِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا " قَالَهَا ثَلَاثًا " وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا " قَالَهَا ثَلَاثًا " وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا " قَالَهَا ثَلَاثًا " أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو تکبیر کہنے کے بعد: ”«اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» پھر «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ: مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے، اس کے وسوسوں سے، تکبر کی ہوا سے اور جادو کی پھنکار سے۔“”
حدیث نمبر: 2354
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " وَزَادَ قَالَ عُمَرُ: وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ يُقَالُ لَهُ عَاصِمٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَزَادَ التَّفْسِيرَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى عَمْرٍو، وَلَكِنْ قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمْزُهُ؟ قَالَ: الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ قِيلَ: وَمَا نَفْخُهُ؟ قَالَ: الْكِبْرُ، قِيلَ: وَمَا نَفْثُهُ؟ قَالَ: الشِّعْرُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مِسْعَرٌ وَشُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند میں ابو ولید شعبہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔“
(ب) انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں: نفخہ سے مراد تکبر ہے، ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے، اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انہوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا: ہمزہ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہو جاتی ہے۔ کسی نے پوچھا: نفخہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا: نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: شعر و شاعری۔
(ب) انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں: نفخہ سے مراد تکبر ہے، ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے، اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انہوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا: ہمزہ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہو جاتی ہے۔ کسی نے پوچھا: نفخہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا: نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: شعر و شاعری۔
حدیث نمبر: 2355
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ، فَذَكَرَ اسْتِفْتَاحَهُ بِسُبْحَانَكَ اللهُمَّ، وَبِالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ بَعْدَهُ ثَلَاثًا " أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " ثُمَّ يَقْرَأُ وَرُوِّينَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو جب قیام کرتے تو تکبیر کہتے، پھر «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ...» سے نماز شروع فرماتے۔ اس کے بعد «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» تین تین مرتبہ کہتے۔ اس کے بعد «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» ”میں شیطان مردود سے اللہ سننے والے اور جاننے والے کی پناہ میں آتا ہوں اور اس کے وسوسے، تکبر اور جادو کی پھونک سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر قرات شروع فرماتے۔
حدیث نمبر: 2356
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي ظَبْيَةَ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ وَفِي حَدِيثِ وَرْقَاءَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا أَنْ نَقُولَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَهَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " قَالَ عَطَاءٌ: فَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ فَوَقَفَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو پڑھتے ۔۔۔ اور ورقا کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں سکھاتے کہ ہم یہ کہیں: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَهَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے، اس کے وسوسے سے، تکبر سے اور جادو کی پھونک سے۔“
عطا کہتے ہیں: ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر و شاعری اور نفخہ سے مراد کبر و تکبر ہے۔
عطا کہتے ہیں: ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر و شاعری اور نفخہ سے مراد کبر و تکبر ہے۔
حدیث نمبر: 2357
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ نماز میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے تھے، شیطان مردود کے وسوسوں سے، اس کے تکبر سے اور اس کے جادو کی پھونک سے۔
حدیث نمبر: 2358
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ثُمَّ يَتَعَوَّذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ يَقْرَأُ مَا بَدَا لَهُ مِنَ الْقُرْآنِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «اللَّهُ أَكْبَرُ»، پھر کہتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور میں تیری تعریف کے ساتھ تجھے یاد کرتا ہوں اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
پھر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے، پھر سورہ فاتحہ کی قراءت کرتے جس سے قرآن کی ابتدا ہوتی ہے۔
پھر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے، پھر سورہ فاتحہ کی قراءت کرتے جس سے قرآن کی ابتدا ہوتی ہے۔