کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کیا کہ وہ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے سے پہلے تکبیر کہہ لے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ التَّمِيمِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ إِذَا قَالَ بِلَالٌ: " قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ نَهَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ " وَهَذَا لَا يَرْوِيهِ إِلَّا الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُضَعِّفُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”نماز کھڑی ہو گئی“ کہتے تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوتے اور تکبیر کہتے۔
اس روایت کو صرف حجاج بن فروخ بیان کرتے ہیں اور یحییٰ بن معین انہیں ضعیف قرار دیتے تھے۔
اس روایت کو صرف حجاج بن فروخ بیان کرتے ہیں اور یحییٰ بن معین انہیں ضعیف قرار دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارِ بْنِ الْحُسَيْنِ الصُّوفِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا عَاصِمٌ ⦗٣٦⦘ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«آمِيْنَ» کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا الْحَنَّائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ مُرْسَلًا، وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ بِلَالٌ: وَلَيْسَ بِشَيْءٍ إِنَّمَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ الثِّقَاتِ، عَنْ عَاصِمٍ دُونَ ذِكْرِ سَلْمَانَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ بِلَفْظٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ”آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ فرمائیں۔“
یہ روایت ایک ضعیف سند کے ساتھ عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے سلمان سے بھی منقول ہے، لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں؛ ثقہ راویوں کی جماعت نے اسے عاصم سے سلمان کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔
یہ روایت ایک ضعیف سند کے ساتھ عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے سلمان سے بھی منقول ہے، لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں؛ ثقہ راویوں کی جماعت نے اسے عاصم سے سلمان کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ فِي الْمُسْنَدِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ بِلَالٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ: عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " فَرَجَعَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنَّ بِلَالًا كَأَنَّهُ كَانَ يُؤَمِّنُ قَبْلَ تَأْمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ سے آگے نہ نکلنا۔“
(ب) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔“
(ج) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کے آمین کہنے سے پہلے آمین کہتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ لے جانا۔“
(ب) سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔“
(ج) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کے آمین کہنے سے پہلے آمین کہتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ لے جانا۔“