کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: صفیں سیدھی کرنے کا حکم دیتے وقت کیا کہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ؟ قُلْتُ: لَا وَاللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيْهِ يَدَهُ فَيَقُولُ: " اسْتَوُوا اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی تو انہوں نے مجھے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اس پر ہاتھ رکھتے تھے اور کہتے تھے: «اسْتَوُوا، اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ» ”برابر ہو جاؤ (سیدھے ہو جاؤ)، اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2294
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 669»