کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مقتدی کب کھڑا ہو، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2284
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَتِ الصَّلَاةُ تُقَامُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ، قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامَهُ " ⦗٣٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے اقامت کہی جاتی تو لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو جاتے اس سے پہلے کہ نبی ﷺ اپنی جگہ تشریف لاتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2284
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 605»
حدیث نمبر: 2285
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، عَنْ أَبِيهِ كَهْمَسٍ قَالَ: " قُمْنَا بِمِنًى إِلَى الصَّلَاةِ وَالْإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ فَقَعَدَ بَعْضُنَا، فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: مَا يُقْعِدُكَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: هَذَا السُّمُودُ، فَقَالَ لِيَ الشَّيْخُ، حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي الصَّلَاةِ صُفُوفًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ قَالَ: وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبَّ إِلَى اللهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ مِنْ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا، يَصِلُ بِهَا صَفًّا " وَالَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ، رُوِيَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ قِيَامٌ، فَقَالَ: مَا لِيَ أَرَاكُمْ سَامِدِينَ، يَعْنِي قِيَامًا، وَسُئِلَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ يَنْتَظِرُونَ الْإِمَامَ قِيَامًا أَوْ قُعُودًا؟ قَالَ: " لَا بَلْ قُعُودًا وَالْأَشْبَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَبْلَ خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأْخُذُونَ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ بِأَنْ لَا يَقُومُوا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ خَرَجَ تَخْفِيفًا عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) عون بن کہمس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے تھے، لیکن امام ابھی تک نہیں آیا تھا۔ چنانچہ ہم میں سے بعض بیٹھ گئے۔ اہل کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تجھے کس نے بٹھایا ہے؟ میں نے کہا: ابن بریدہ نے۔ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھے اس کے بارے میں عبدالرحمن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں نماز کے لیے آپ ﷺ کے تکبیر کہنے سے پہلے لمبی صف بنا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے ان لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو پہلی صف کو ملاتے ہیں اور اللہ جل شانہ کے نزدیک ان قدموں سے بہترین کوئی قدم نہیں جن کے ساتھ وہ چل کر آتا ہے اور صف کو ملاتا ہے۔“
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ ابو خالد والبی سے منقول ہے کہ ایک دن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھانے نکلے تو ہم کھڑے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ہو گیا ہے کہ میں تمہیں مبہوت حالت میں کھڑے دیکھ رہا ہوں۔
(ج) حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ امام کا انتظار کھڑے ہو کر کریں یا بیٹھ کر؟ تو انہوں نے فرمایا: بیٹھ کر انتظار کریں۔
اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، نبی ﷺ کے نکلنے سے پہلے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ آپ ﷺ کے اپنی جگہ پر کھڑے ہونے سے پہلے اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کریں جب تک مجھے نہ دیکھ لیں۔“ آپ ﷺ نے ان پر تخفیف کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2285
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 543»
حدیث نمبر: 2286
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2286
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 611»
حدیث نمبر: 2287
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا: ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ " ⦗٣٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْهُ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ شَيْبَانَ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنِ الْحَجَّاجِ دُونَ قَوْلِهِ (قَدْ خَرَجْتُ) وَأَمَّا الَّذِي يَرْوِيهِ بَعْضُ الْمُتَفَقِّهَةِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَتَّى تَرَوْنِي قَائِمًا فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا، وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ إِذَا قِيلَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَثَبَ فَقَامَ وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ وَالْحَسَنِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابو قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اقامت کہہ دی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کہ میں نماز کے لیے نکل آیا ہوں۔“
(ب) اسی طرح اس حدیث کو ولید بن مسلم نے شیبان سے، انہوں نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: ”جب تک تم دیکھو کہ میں نماز کے لیے نکل پڑا ہوں۔“
حجاج سے منقول روایت میں «قَدْ خَرَجْتُ» ”میں یقیناً نکل آیا ہوں“ کے الفاظ ہیں اور دوسری روایت میں، جسے بعض متفقہین نے نقل کیا ہے، «حَتّٰى تَرَوْنِي قَائِمًا فِي الصَّفِّ» ”یہاں تک کہ تم مجھے صف میں کھڑا ہوا دیکھ لو“ یہ الفاظ ہیں۔
(ج) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی“ سنتے تو نماز کے لیے فوراً کھڑے ہو جاتے۔
(د) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہ عطاء اور حسن کا قول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2287
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»