کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اجتہاد کے بعد (قبلہ کے تعین میں) غلطی واضح ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2239
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ لوگ مسجد قبا میں نماز فجر ادا کر رہے تھے، اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے کہا: ”گزشتہ روز رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں، لہٰذا قبلہ رخ ہو جاؤ۔“ ان کے چہرے شام کی طرف تھے، چنانچہ وہ (حالت نماز میں ہی) کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدیث نمبر: 2240
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ⦗١٨⦘ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ مَرَّتَيْنِ قَالَ: فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 144] ”پس اپنے چہرے کو مسجدِ حرام کی طرف پھیر اور جہاں بھی تم ہو اپنے چہروں کو اسی طرف پھیر لو۔“
تو بنو سلمہ کا ایک شخص چند لوگوں پر سے گزرا۔ اس نے انہیں آواز دی۔ وہ فجر کی نماز میں حالتِ رکوع میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے کہا: خبردار! سنو! قبلہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔ اس نے دو بار یہی کہا، چنانچہ وہ حالتِ رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔
تو بنو سلمہ کا ایک شخص چند لوگوں پر سے گزرا۔ اس نے انہیں آواز دی۔ وہ فجر کی نماز میں حالتِ رکوع میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے کہا: خبردار! سنو! قبلہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔ اس نے دو بار یہی کہا، چنانچہ وہ حالتِ رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدیث نمبر: 2241
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ، وَعُمَرُ بْنُ قَيْسٍ قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أُظْلِمَتْ مَرَّةً وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ، وَاشْتَبَهَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حِيَالَهُ، فَلَمَّا انْجَلَتْ إِذَا بَعْضُنَا صَلَّى لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، وَبَعْضُنَا قَدْ صَلَّى لِلْقِبْلَةِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " " مَضَتْ صَلَاتُكُمْ " " وَنَزَلَتْ {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] " ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیع رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے اوپر اندھیرا چھا گیا (رات ہوگئی) اور ہم سفر میں تھے۔ اس دوران ہم پر قبلہ مشتبہ ہوگیا۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نماز ادا کی۔ جب موسم صاف ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم میں سے بعض لوگوں نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے۔ ہم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری نماز ہوگئی ہے۔“ اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”جدھر بھی منہ کر لو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“
﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”جدھر بھی منہ کر لو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“
حدیث نمبر: 2242
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " صَلَّيْنَا لَيْلَةً فِي غَيْمٍ، وَخَفِيَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، وَعَلَّمْنَا عَلَمًا، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا نَظَرْنَا فَإِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ " فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " قَدْ أَحْسَنْتُمْ " وَلَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نُعِيدَ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَطَاءٍ فَقَدْ مَضَى، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الْمَلِكِ فَإِنَّهُ فِي وِجَادَاتِ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے ابر آلود رات میں نماز پڑھی اور ہم پر قبلہ کی سمت واضح نہ ہوسکی، چنانچہ ہم نے (جس جانب نماز پڑھی تھی) وہاں نشانی رکھ دی۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلے سے دوسری طرف نماز پڑھی، چنانچہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا“ اور آپ نے ہمیں نماز لوٹانے کا نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 2243
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرُّصَافِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَرْزَمِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً كُنْتُ فِيهَا فَأَصَابَتْنَا ظُلْمَةٌ، فَلَمْ نَعْرِفِ الْقِبْلَةَ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهَا: الْقِبْلَةُ هَاهُنَا قِبَلَ الشِّمَالِ، فَصَلُّوا وَخَطُّوا خَطًّا، وَقَالَ بَعْضُهُمُ: الْقِبْلَةُ هَاهُنَا قِبَلَ الْجَنُوبِ وَخَطُّوا خَطًّا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ، أَصْبَحَتْ تِلْكَ الْخُطُوطُ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَقَدِمْنَا مِنْ سَفَرِنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ⦗١٩⦘ فَسَكَتَ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] " أَيْ حَيْثُ كُنْتُمْ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَاغَنْدِيُّ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، وَلَمْ نَعْلَمْ لِهَذَا الْحَدِيثِ إِسْنَادًا صَحِيحًا قَوِيًّا؛ وَذَلِكَ لِأَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيَّ وَمُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيَّ، وَمُحَمَّدَ بْنَ سَالِمٍ الْكُوفِيَّ كُلُّهُمْ ضُعَفَاءُ، وَالطَّرِيقُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِيِّ غَيْرُ وَاضِحٍ لِمَا فِيهِ مِنَ الْوِجَادَةِ وَغَيْرِهَا، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا نُزُولُ الْآيَةِ فِي ذَلِكَ، وَصَحِيحٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ الْآيَةَ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي التَّطَوُّعِ خَاصَّةً حَيْثُ تَوَجَّهَ بِكَ بَعِيرُكَ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چند لوگوں کو جہاد کے لیے بھیجا۔ میں بھی ان میں تھا۔ موسم خراب ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے سمت قبلہ کی پہچان مشکل ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے شمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ ادھر ہے۔ انہوں نے ادھر ہی نماز پڑھی اور خط کھینچ لیا اور بعض نے کہا کہ قبلہ جنوب کی طرف ہے۔ انہوں نے بھی اسی طرف نماز پڑھی اور خط کھینچ لیا۔ جب صبح ہوئی اور سورج طلوع ہو گیا تو وہ لکیریں غیر قبلہ کی طرف تھیں۔ جب ہم سفر سے واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”مشرق و مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں۔ جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔“ یعنی جہاں بھی ہو، جدھر بھی ہو۔
صحیح وہ ہے جو سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت خاص طور پر نفل نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ نفل نماز میں تمہاری سواری کا رخ جدھر بھی ہو درست ہے اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
صحیح وہ ہے جو سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت خاص طور پر نفل نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ نفل نماز میں تمہاری سواری کا رخ جدھر بھی ہو درست ہے اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 2244
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ قَالَ: وَفِيهِ نَزَلَتْ {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْمَكْتُوبَةِ، ثُمَّ صَارَتْ مَنْسُوخَةً، وَذَلِكَ فِيمَا:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لاتے ہوئے اپنی سواری پر (نفل) نماز ادا فرما لیا کرتے تھے جدھر بھی آپ ﷺ کا رخ ہوتا اور فرماتے: ”اسی بارے یہ آیت کریمہ اتری ہے: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔“”
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ فرض نماز کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ پھر منسوخ ہوگئی اور یہ اسی سے متعلق ہے۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ فرض نماز کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ پھر منسوخ ہوگئی اور یہ اسی سے متعلق ہے۔
حدیث نمبر: 2245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ فِيمَا ذُكِرَ لَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ شَأْنُ الْقِبْلَةِ قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] " فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَتَرَكَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ " فَقَالَ {سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا} [البقرة: ١٤٢] " يَعْنُونَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَنَسَخَهَا فَصَرَفَهُ اللهُ إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ " فَقَالَ {وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} " ⦗٢٠⦘ وَفِي كَلَامِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بَيَانُ مَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا وَهُوَ أَنَّهُ دَخَلَ فِي مَبْسُوطِ كَلَامِهِ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ اسْتَقْبَلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ مُوَلِّيًا عَنِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ وَهُوَ يُحِبُّ لَوْ قَضَى اللهُ لَهُ بِاسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَى أَنْ أَنْزَلَ اللهُ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: ١٤٤] " قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي قَوْلِهِمْ {مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا} [البقرة: ١٤٢].
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قرآن میں سے سب سے پہلے جو چیز منسوخ کی گئی وہ آیتِ قبلہ ہے، یعنی ﴿وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”مشرق و مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے اور بیت اللہ کو چھوڑ دیا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”عنقریب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ تھے“ یعنی بیت المقدس۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کر دیا اور آپ ﷺ کو بیتِ عتیق یعنی کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ اس سلسلے میں یہ آیت اتری: ﴿وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 150] ”اور آپ جہاں سے بھی نکلیں اپنے چہرے کو مسجدِ حرام کی طرف پھیریں اور تم جہاں کہیں بھی ہو تو اسی (مسجدِ حرام) کی طرف ہی اپنے چہروں کو پھیر لو۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمانے لگے، لیکن آپ ﷺ کی خواہش تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔“
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت یہود کے اس قول کے بارے میں نازل ہوئی جو انہوں نے کہا، یعنی: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ تھے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمانے لگے، لیکن آپ ﷺ کی خواہش تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔“
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت یہود کے اس قول کے بارے میں نازل ہوئی جو انہوں نے کہا، یعنی: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ تھے۔“
حدیث نمبر: 2246
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَكَانَ أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْيَهُودَ، أَمَرَهُ اللهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَفَرِحَتِ الْيَهُودُ فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَضْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ قِبْلَةَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَكَانَ يَدْعُو اللهَ وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: ١٤٤] إِلَى قَوْلِهِ {فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة: ١٤٤] يَعْنِي نَحْوَهُ فَارْتَابَ مِنْ ذَلِكَ الْيَهُودُ، وَقَالُوا {مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا} [البقرة: ١٤٢] فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] {وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ} [البقرة: ١٤٣] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلِيَمِيزَ أَهْلَ الْيَقِينِ مِنْ أَهْلِ الشَّكِّ وَالرِّيبَةِ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللهُ} [البقرة: ١٤٣] يَعْنِي تَحْوِيلَهَا عَلَى أَهْلِ الشَّكِّ {إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ} [البقرة: ٤٥]، يَعْنِي الْمُصَدِّقِينَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي قَوْلِهِ {فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥]: يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: فَثَمَّ الْوَجْهُ الَّذِي وَجَّهَكُمُ اللهُ إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) علی بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قرآن میں سب سے پہلے جو حکم منسوخ ہوا وہ قبلہ کے بارے میں تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو وہاں اکثریت یہودیوں کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر لیں۔ یہودی خوش ہو گئے، رسول اللہ ﷺ اس قبلے پر سولہ یا سترہ ماہ تک رہے، لیکن آپ ﷺ ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ پسند فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہتے تھے اور نظر اٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف بھی دیکھتے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آپ کے چہرے کا آسمان میں بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم ضرور آپ کو آپ کے پسندیدہ قبلے کی طرف پھیر دیں گے۔“ ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ﴾ [سورة البقرة: 144] ”اپنے چہروں کو اسی طرف پھیرو۔“ یہودیوں کو اس سے ضد ہوئی تو انھوں نے کہا: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا﴾ [سورة البقرة: 142] ”جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیرا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”مشرق و مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔“ ﴿وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ﴾ [سورة البقرة: 143] ”جس قبلہ پر آپ تھے اس کو ہم نے اس لیے بنایا تھا کہ ہم واضح کر دیں کہ رسول اللہ کی اطاعت کون کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں انکار کرتا ہے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «لِنَعْلَمَ» کا معنی یہ ہے کہ یقین والوں اور شک کرنے والوں میں تمیز کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 143] ”یقیناً یہ بڑا مشکل ہے، مگر اللہ نے جن کو ہدایت سے نوازا (ان پر گراں نہیں ہے)“ یعنی تحویل قبلہ شک والوں پر گراں ہے۔ ﴿إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 143] ”مگر ڈرنے والوں پر۔“ یعنی اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تصدیق کرنے والوں پر بھاری نہیں ہے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی طرف ہے جس طرف اس نے تمہیں متوجہ کیا ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «لِنَعْلَمَ» کا معنی یہ ہے کہ یقین والوں اور شک کرنے والوں میں تمیز کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 143] ”یقیناً یہ بڑا مشکل ہے، مگر اللہ نے جن کو ہدایت سے نوازا (ان پر گراں نہیں ہے)“ یعنی تحویل قبلہ شک والوں پر گراں ہے۔ ﴿إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 143] ”مگر ڈرنے والوں پر۔“ یعنی اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تصدیق کرنے والوں پر بھاری نہیں ہے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی طرف ہے جس طرف اس نے تمہیں متوجہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2247
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ النَّضْرِ يَعْنِي ابْنَ عَرَبِيٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] قَالَ: " قِبْلَةُ اللهِ فَأَيْنَمَا كُنْتَ فِي مَشْرِقٍ أَوْ مَغْرِبٍ فَلَا تَوَجَّهَنَّ إِلَّا إِلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَاَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] کے بارے میں منقول ہے کہ اللہ کا قبلہ سے مراد یہ ہے کہ تو مشرق و مغرب میں جہاں بھی ہو تو صرف اسی کی طرف چہرہ کر۔
حدیث نمبر: 2248
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ، أَوْ عَلَى غَيْرِ قِبْلَةٍ أَعَادَ الصَّلَاةَ، كَانَ فِي الْوَقْتِ أَوْ غَيْرِ الْوَقْتِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ خَطَاؤُهُ الْقِبْلَةَ تَحَرُّفًا أَوْ شَيْئًا يَسِيرًا " ⦗٢١⦘ وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ: لَا يُعِيدُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبدالرحمن بن ابوزناد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ فقہاء مدینہ کا یہ قول ہے کہ جو شخص بے وضو یا غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اس کو نماز لوٹانی ہوگی، چاہے وقت کے اندر ہو یا وقت گزر چکا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاؤں قبلے سے منحرف ہوں یا وہ خود تھوڑا سا منحرف ہو تو گنجائش ہے۔
(ب) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو غیر قبلہ کی طرف نماز ادا کرے کہ وہ نماز نہ لوٹائے۔
(ب) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو غیر قبلہ کی طرف نماز ادا کرے کہ وہ نماز نہ لوٹائے۔