کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے سفر میں صرف اقامت پر اکتفا کیا
حدیث نمبر: 1944
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، " كَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى الْإِقَامَةِ فِي السَّفَرِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا فِي الصُّبْحِ فَإِنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ فِيهَا وَيُقِيمُ وَيَقُولُ: إِنَّمَا الْأَذَانُ لِلْإِمَامِ الَّذِي يَجْتَمِعُ إِلَيْهِ النَّاسُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ بے شک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر کی نماز میں اقامت سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے (یعنی اذان نہیں دیتے تھے) سوائے صبح کی نماز کے، وہ اس میں اذان دیتے اور اقامت کہتے اور فرماتے تھے: اذان امام کے لیے ہے جس کے پاس لوگ جمع ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1944
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك»
حدیث نمبر: 1945
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو النَّضْرِ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَخِيهِ الرُّحَيْلِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ يُؤَذَّنُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " لِمَنْ تُؤَذِّنُ لِلْفَأْرَةِ؟ " قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي ذَهَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ يُحْتَمَلُ، لَوْلَا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الْأَذَانِ فِي الْبَادِيَةِ وَحَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ فِي أَذَانِ الرَّاعِي وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَذَانَ مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ وَإِنْ كَانَ وَحْدَهُ، وَيُسْتَدَلُّ بِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَلَى أَنَّ تَرْكَ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ أَخَفُّ مِنْ تَرْكِهِ فِي الْحَضَرِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسَافِرِ: إِنْ شَاءَ أَذَّنَ وَأَقَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَقَامَ، وَبَعْضُ النَّاسِ رَفَعَ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ، وَهُوَ وَهْمٌ فَاحِشٌ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: کیا میں سفر میں اذان دوں؟ انہوں نے کہا: کس کے لیے اذان دے گا؟ کیڑے مکوڑوں کے لیے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا موقف محتمل ہے۔ اگر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی جنگل میں اذان والی حدیث اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ وغیرہ کی چرواہے والی حدیث نہ ہوتی۔ ان تمام احادیث میں دلالت ہے کہ اذان کہنا سنت ہے اگرچہ آدمی اکیلا ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ سفر میں اذان ترک کرنا بہ نسبت حضر کے کم درجہ کی چیز ہے۔
(ج) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ مسافر کے متعلق فرماتے ہیں: اگر وہ چاہے اذان دے اور اقامت کہے اور اگر چاہے تو اقامت کہے، بعض لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے اور یہ وہم فاحش ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1945
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»