حدیث نمبر: 1860
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ ⦗٥٨٤⦘ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: " إِنِّي أُرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ فِي بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ لِلصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَفِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: لَهُ فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ مُؤَذِّنٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں تجھ کو دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور دیہات کو پسند کرتے ہو، لہٰذا جب تم اپنی بکریوں یا دیہات میں ہو تو نماز کے لیے اذان کہو اور اذان میں اپنی آواز کو بلند کرو، یقیناً ”موذن کی آواز کو جن، انسان اور جو چیز بھی سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گے۔“
ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔
(ب) عبد الرحمن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو نماز کے لیے اذان دے اور اپنی آواز کو بلند کر اس لیے کہ وہ آپ کی بلند آواز نہیں سن پاتے۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔
(ب) عبد الرحمن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو نماز کے لیے اذان دے اور اپنی آواز کو بلند کر اس لیے کہ وہ آپ کی بلند آواز نہیں سن پاتے۔
حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ يُؤَذِّنُ عَلَى أَطْوَلِ مَنَارَةٍ بِالْكُوفَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى وَأَنَا أَطُوفُ مَعَهُ يَعْنِي حَوْلَ الْبَيْتِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
شعبہ فرماتے ہیں اور وہ کوفہ کے لمبے مینار پر اذان دیتے تھے: مجھ کو ابو یحییٰ نے بیان کیا اور میں ان کے ساتھ چکر لگا رہا تھا (یعنی بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا) انہوں نے کہا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا میں نے آپ ﷺ کے منہ سے سنا ہے کہ ”مؤذن کو اس کی آواز کی لمبائی کی مقدار معاف کر دیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کے لیے گواہی دیتی ہے اور نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور ان (نمازوں) کے درمیان (کے گناہوں کے لیے) کفارہ ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1862
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا أَبُو عُبَيْدٍ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ مَكَّةَ أَذَّنْتُ فَقَالَ لِي عُمَرُ: يَا أَبَا مَحْذُورَةَ " أَمَا خِفْتَ أَنْ يَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ آئے تو میں نے اذان دی، مجھ کو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو محذورہ! کیا تو ڈر گیا کہ زور لگانے سے تیری آواز پھٹ جائے گی؟