حدیث نمبر: 1841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ثنا عَبْدُ اللهِ الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ رُبَّمَا أَذَّنَ عَلَى رَاحِلَتِهِ الصُّبْحَ ثُمَّ يُقِيمُ بِالْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بعض اوقات اپنی سواری پر بیٹھ کر صبح کی اذان دیتے تھے، پھر زمین پر کھڑے ہو کر اقامت کہتے۔
حدیث نمبر: 1842
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي طُعْمَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُؤَذِّنُ عَلَى رَاحِلَتِهِ " وَرُوِي فِيهِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوطعمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر اذان دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1843
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِلَالًا فِي سَفَرٍ فَأَذَّنَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ثُمَّ نَزَلُوا فَصَلَّوْا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو سفر میں حکم دیا، انہوں نے اپنی سواری پر اذان دی، پھر نیچے اترے، دو رکعتیں پڑھیں، پھر ان کو حکم دیا گیا تو انہوں نے اقامت کہی، آپ ﷺ نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 1844
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ: وَتَقَدَّمَ رَجُلٌ فَصَلَّى بِنَا وَكَانَ أَعْرَجَ أُصِيبَ رِجْلُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى " وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: يُكْرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ قَاعِدًا إِلَّا مِنْ عُذْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) حسن بن محمد سے روایت ہے کہ میں ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی اور وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور ہمیں نماز پڑھائی اور وہ لنگڑا تھا، اس کا پاؤں اللہ کے راستے میں زخمی ہو گیا تھا۔
(ب) عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ناپسند سمجھتے تھے کہ اذان بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دے۔
(ب) عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ناپسند سمجھتے تھے کہ اذان بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دے۔