کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دیگر تمام نمازوں کے لیے وقت داخل ہونے کے بعد اذان دینے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 1805
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا أَبُو النَّضْرِ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ثنا أَبُو إِسْحَاقَ ثنا سِمَاكٌ ثنا جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: " كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَآهُ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي خَيْثَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، پھر وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ نبی ﷺ کو نہ دیکھ لیتے، جب آپ ﷺ کو دیکھ لیتے تو اقامت کہتے۔
حدیث نمبر: 1806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْهَمْدَانِيُّ ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ثنا وَهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ ⦗٥٦٧⦘ رَحِيمًا رَقِيقًا فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهْلِنَا قَالَ: " ارْجِعُوا فَكُونُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَصَلُّوا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی قوم کی ایک جماعت میں نبی ﷺ کے پاس آیا، ہم نے آپ ﷺ کے پاس بیس دن قیام کیا اور آپ بہت رحیم اور شفیق تھے، جب آپ ﷺ نے ہمارے اہل کی طرف ہمارا شوق دیکھا تو فرمایا: ”تم لوٹ جاؤ اور ان میں رہو، ان کو سکھاؤ اور نماز پڑھو، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان دے اور تم میں سے بڑا تمہاری امامت کرائے۔“
حدیث نمبر: 1807
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: " لَمْ يَزَلِ الصُّبْحُ يُنَادَى بِهَا قَبْلَ الْفَجْرِ فَأَمَّا غَيْرُهَا مِنَ الصَّلَوَاتِ فَإِنَّا لَمْ نَرَهَا يُنَادَى بِهَا إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَحِلَّ وَقْتُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: صبح ہمیشہ فجر سے پہلے اذان دی جاتی رہی، اس کے علاوہ نمازوں کا ہم خیال نہیں کرتے تھے، ان کی اذان تب دی جاتی تھی جب ان کا مشروع وقت شروع ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 1808
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " لَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةٍ غَيْرِ الصُّبْحِ إِلَّا بَعْدَ وَقْتِهَا لِأَنِّي لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا حَكَى عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَذَّنَ لِصَلَاةٍ قَبْلَ وَقْتِهَا غَيْرَ الْفَجْرِ وَلَمْ نَرَ الْمُؤَذِّنِينَ عِنْدَنَا يُؤَذِّنُونَ إِلَّا بَعْدَ دُخُولِ وَقْتِهَا إِلَّا الْفَجْرَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صبح کی اذان اس کے وقت کے بعد دی جائے۔ اس لیے کہ میں کسی کو نہیں جانتا جس نے رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہو کہ آپ نے نمازِ فجر کے علاوہ کسی دوسری نماز کے لیے اس کے وقت سے پہلے اذان دی ہو اور ہم نے اپنے مؤذنوں کو نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد اذان دیتے ہوئے دیکھا ہے سوائے نماز فجر کے۔