کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جب آدمی تنہا ہو تو برہنہ ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُهَلَّبِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْتَثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي، عَنْ بَرَكَتِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دفعہ ایوب علیہ السلام اکیلے ننگے غسل کر رہے تھے تو ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑوں میں ڈالنا شروع ہو گئے۔ رب تعالیٰ نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے آپ کو غنی نہیں کیا اس سے جو تم دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن میں تیری برکت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 958
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 275»
وَبِإِسْنَادِهِمَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى الْحَجَرِ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى فِي أَثَرِهِ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، قَالَ: فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَمَا نَظَرُوا إِلَيْهِ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا "، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللهِ إِنَّهُ نَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً، ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ. رَوَاهُمَا الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِيثَ الثَّانِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل والے ننگے غسل کرتے تھے، وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھتے تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ اس لیے غسل کرتے کہ ان کو کوئی بیماری ہے۔ آپ علیہ السلام ایک مرتبہ غسل کرنے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تو پتھر کپڑے لے کر بھاگ نکلا۔ موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے بھاگے اور کہہ رہے تھے: «ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ» ”اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے“، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کی شرم گاہ کی طرف دیکھا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ ان کے دیکھنے کے بعد پتھر کھڑا ہو گیا تو انہوں نے اپنے کپڑے پکڑے اور پتھر کو مارنا شروع کیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! پتھر پر موسیٰ علیہ السلام کی مار کے چھ یا سات نشان موجود تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 959
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 274»