حدیث نمبر: 871
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوَ الْحِلَابِ، وَأَخَذَهُ بِكَفِّهِ فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ الْمَاءَ "، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى. وَالْحِلَابُ الْإِنَاءُ: وَهُوَ مَا يُحْلَبُ فِيهِ يُسَمَّى حِلَابًا أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ عَنِ الشَّيْخِ أَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ، وَمِمَّا يؤكدُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسلِ جنابت کرتے تو ایک بڑے پیالے کی طرح کوئی چیز منگواتے، پھر ایک چلو پانی لیتے اور اپنے سر کے دائیں طرف سے شروع کرتے، پھر بائیں طرف کرتے، پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیتے اور اس کو اپنے سر پر ڈالتے۔
(ب) «الْحِلَابُ» سے مراد وہ برتن ہے جس میں دودھ نکالا جاتا ہے، اس کا نام حلاب رکھا جاتا تھا۔
(ب) «الْحِلَابُ» سے مراد وہ برتن ہے جس میں دودھ نکالا جاتا ہے، اس کا نام حلاب رکھا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 872
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي زِيَادَاتِ الْفَوَائِدِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ فِي حِلَابٍ قَدْرَ هَذَا، وَأَرَانَا أَبُو عَاصِمٍ قَدْرَ الْحِلَابِ بِيَدِهِ فَإِذَا هُوَ كَقَدْرِ كُوزٍ يَسَعُ ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِكَفَّيْهِ فَيَصُبُّ وَسَطَ رَأْسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اتنی مقدار کے پیالے سے غسل کرتے تھے اور ابو عاصم نے ہم کو پیالے کی مقدار اپنے ہاتھ سے بتلائی کہ وہ ایسا پیالہ تھا کہ اس میں آٹھ رطل پانی آجاتا تھا، پھر اپنے سر کی دائیں جانب پانی ڈالتے، پھر اپنے سر کی بائیں جانب، پھر چلو پانی اور اس کو سر کے درمیان میں ڈالتے۔